تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 457
۳۷م آپ کے اذکار بعض مسائل کے متعلق نہایت اعلیٰ درجہ کے لکھے گئے ہیں بلکہ ایک حوالہ تو ایسا ہے جس کی ہم کو تلاش رہی اور پہلے ہم کو نہ ملا۔اس میں ہمیں مل گیا۔یہ بھی اچھی دلچسپ کتاب ہے۔اسی طرح مرکز میں کتب کی اشاعت کے لئے دو کمپنیاں بنائی گئی ہیں۔۔۔جو کمپنی انگریزی اور دوسری غیر زبانوں کا لٹریچر تیار کرنے کے لئے قائم کی گئی ہے۔۔۔اس وقت تک ان کی طرف سے ڈچ ترجمہ قرآن اور جرمن ترجمة القرآن شائع ہو چکا ہے اور انگریزی ترجمہ القرآن کل مجھے ملا ہے اس موقعہ پر حضور نے انگریزی ترجمۃ القرآن کی کاپی لوگوں کو دکھائی اور فرمایا ، یہ ابھی مکمل نہیں ہے۔انہوں نے اس کی جلد بندی صرف جلسہ کے لوگوں کو دکھانے کے لئے کر دی ہے۔ورنہ اس میں ابھی دیا چہ شامل ہونا ہے۔پولیس والوں نے کہا ہے کہ ان دنوں ہمیں کرسمس کا کام ہے۔ہم اس وقت نہیں چھاپ سکتے۔تین مہینہ کے بعد چھاپیں گے۔اس لئے انہوں نے یہ شکل آپ لوگوں کو دکھانے کے لئے بھیج دی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ چونکہ کئی لوگ ساری جلدوں میں قرآن شریف نہیں خرید سکتے اور پڑھ بھی نہیں سکتے۔اس لئے یہ ترجمہ انشاء اللہ مفید ثابت ہوگا اور انگریزی جاننے والے ملکوں مثلاً انگلینڈ اور امریکہ اور آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ وغیرہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اس سے اعلیٰ درجہ کی تبلیغ بقیه حاشیه :) مبارک باد دیتے ہوئے تحریک کی تھی کہ اگر اس تقریر کو مناسب نظر ثانی کے بعد کتابی صورت میں شائع کر دیا جائے تو انشاء اللہ بہت مفید ہوگا۔اور مجھے دلی خوشی ہوئی کہ بالآخر یہ تقریر ایک مستقل رسالہ کی صورت میں شائع ہو گئی ہے۔قاضی صاحب نے اس دلچسپ اور علمی تصنیف میں حضور سرور کائنات خاتم النبیین حضرت محمد مصطفے اصلی علیہ سلم کے مقام ختم نبوت کے متعلق بہت سیر کن بحث کی ہے اور ملائل تعلیم اور عقلیہ کی رو سے یہ بات ثابت کی ہے کہ حضور سرور عالم کا مقام ختم نبوت ایک ایسا بلند اور ارفع مقام ہے جو نہ صرف تمام دوسرے نبیوں کے لئے گل سرسید کا حکم رکھتا ہے بلکہ حقیقہ" یہ ایک عدیم المثال قدرتی ایشا ہے جس سے پانی حاصل کر کے تمام پہلی اور مچھلی نہریں روحانی کھیتوں کو سیراب کر رہی ہیں ضمنا اس کتاب میں یہ بحث بھی کافی صورت میں آگئی ہے کہ ختم نبوت کے مقام کا جو تصور آج کل دوسرے لوگوں کے ذہنوں میں پایا جاتا ہے وہ اس عجیب و غریب مقام کی صحیح اور حقیقی تشریح نہیں ہے اور نہ اس میں اُس غیر معمولی بلندی کا نظریہ موجود ہے جو اس عدیم المثالی مقام کا مرکزی نقطہ ہے۔" (روز نامہ الفضل " ریوه بر جنوری ۹۵۵اء ت )