تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 456
باشم کم (۱۰) رساله حج و از حضرت مولانا عبد اللطیف صاحب بہاولپوری ) (1) ر سال " معیار شناخت انبیاء راز مولوی غلام باری صاحب سیف پر دنیسر جامعة المينشرين ربوہ )۔اس کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بلند پایہ تفریہ" اسلامی اصول کی فلاسفی" کا ایک نیا ایڈیشن بھی الشركة الاسلامیہ ربوہ کی طرف سے شائع کیا گیا۔حضرت مصلح موعودؓ نے سالانہ جلسہ ۱۹۵۳ہ کے موقع پر مندرجہ بالا کتب کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا : اس سال کچھ نئی کتا ہیں اور لٹریچر شائع ہوا ہے۔جن میں سے ایک کتاب مسئلہ ختم نبوت پر قاضی محمد نذیر صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ نے لکھی ہے۔نہیں نے اب تو یہ کتاب نہیں دیکھی لیکن جب انہوں نے یہ مضمون لکھنے کا ارادہ کیا تھا تو وہ اس کے ہیڈ نگ بنا کہ میرے پاس لائے تھے۔اور مجھے سے انہوں نے مشورہ کیا تھا۔میرا اثر یہی ہے کہ یہ کتاب اچھی اور اس زمانہ کے لحاظ سے مفید ہو سکتی ہے۔میں نے ان کو سمجھایا تھا کہ ہمارے ہاں پہلے جو طریق رہا ہے کہ بعض بے اختیاطیوں کی وجہ سے لوگوں کو خواہ مخواہ ٹھو کہ لگی اس سے آپ کو پہنچنا چاہیئے۔جب صداقت پہلے بھی آپ لوگ پیش کرتے تھے اور اب بھی پیش کرتے ہیں تو کیوں نہ ایسے الفاظ میں اس کو پیش کیا جائے جو دوسروں کے لئے تکلیف دہ نہ ہوں یا کم سے کم ان کو پیچھے پھرانے والے نہ ہوں۔دوسری کتاب " حیات بقا پوری ہے۔اس میں انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض قتادے بھی جمع کئے ہیں۔نہ معلوم وہ ہیں جن میں وہ بھی اس وقت بیٹھے ہوتے تھے یا ان کو پسند تھے کہ انہوں نے لکھ لئے لیکن اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض خیالات اور لے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس کتاب پر حسب ذیل تبصرہ لکھا ہے حال ہی میں ایک کتاب " شان خاتم النبیین " مصنفہ محترمی قاضی محمد نذیر صاحب پرنسپل جامعه احمدیه شائع ہوئی ہے دراصل یہ کتاب قاضی صاحب موصوف کی ایک تقریر کی تو سیع ہے جو انہوں نے جیسے الیانہ ۱۹۵ء کے موقعہ پر کی تھی اور میں نے اس تقریر کے خاتمہ پر محترم قاضی صاحب کو اس کامیاب تقریر پر 1 i