تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 428
ام پادیں ان کے سب سے چھوٹے بھائی سیٹھ قاسم علی صاحب اسماعیلی مذہب ترک کر کے اہل حدیث جماعت میں شامل ہو گئے اور آخر وقت تک اس مسلک پر قائم رہے اُن سے بڑے بھائی سیٹھ غلام حسین اسماعیلی عقیدے پر قائم رہے۔اُن کے تیسرے بھائی جو عمر کے لحاظ سے دوئم نمبر پر تھے اور جس کا نام احمد علاؤ الدین تھا۔کاروباری دنیا میں بہت کامیاب رہے پہلے سرکار انگریزی کی طرف سے خان بہادر اور بعد میں 8۔5-0 کے خطابات عطا ہوئے اور عہد عثمانیہ کے آخری دور میں نواب احمد نواز جنگ کے خطاب سے سرفراز ہوئے ان کی طرف حضرت قبلہ سیٹھ صاحب کی ہمیشہ توجہ رہی چنانچہ ایک طرف تو سر آغا خان کی طرف سے وہ ریاست حیدر آباد کی اسماعیلی جماعت کے وزیہ تھے تو دوسری طرف حضرت مصلح موعودؓ سے بے حد عقیدت رکھتے تھے اور تحریک جدید کے مجاہدین میں آخر وقت تک شامل رہے اور جب کبھی انہیں کاروبار میں منافع ہوتا تو ایک خطیر رقم حضرت مصلح موعود کی خدمت میں بطور نذرانہ پیش کرتے چنانچہ جب لاء میں حضرت مصلح موعود حیدر آباد دکن کی سیاحت پر گئے تو نواب احمد نواز جنگ کو حضور نے میزبانی کا شرف عطا کیا۔اس عرصے میں وہ سر کار نظام کے ساتھ کئی بڑی صنعتوں میں ۴۹ فیصد کے تناسب سے حصہ دار بن گئے۔اس کاروبار میں میر لائق علی بھی شامل تھے حضرت قبلہ سیٹھ صاحب کے متواتر اصرار پر انہوں نے شہداء سے قبل کسی وقت مخفی بیعت بھی کر لی اور اس کے اعلانیہ اظہار کو بمدہ اخفا میں رکھنے کے لئے یہ عذر کیا کہ چونکہ سرکار نظام کاروبار میں سینٹر پارٹنر ہیں اور احمدیت سے بغض رکھتے ہیں لہذا بیت کے اعلانیہ اظہار سے اُن کے کاروبار کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے لیکن جب ستمبر کہ میں ہندوستان نے حیدر آباد پر قبضہ کر لیا تو نظام حیدر آباد کی سرکار کے جو اه بر جیسے ان صنعتوں میں تھے وہ کانگریسی گورنمنٹ نے ضبط کر کے بر لا اینڈ کو کے ہاتھ فروخت کر دیئے۔اُدھر میر لائق علی سیاسی وجوہ کی بنا پر پہلے نظر بند ہوئے اور بعد میں فرار ہو کہ پاکستان آگئے۔ہندوستانی حکومت نے اس شیبہ کی بنا پہ کہ میرا لائق علی کے فرار میں نواب صاحب کا ہاتھ ہے انہیں گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا۔اور کچھ عرصے بعد رہا کر دیا۔نواب صاحب اس صدمے سے بہت مضمحل ہوئے اور ۱۹۵۷ء میں انتقال کر گئے مگر ۱۹۴۶ء میں جبکہ نظام حیدر آباد کی حکومت کا خاتمہ ہو چکا تھا۔