تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 427 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 427

۴۹ اس بات سے انہیں جتنی خوشی ہوئی تھی اسے میں پورے طور پر بیان کرنے سے قاصر ہوں باوجود اس کے کہ وہاں مقامی لحاظ سے صرف اُن کا ایک ہی گھر احمدی تھا۔پھر بھی انہوں نے اچھی بڑی اور خوبصورت مسجد بنائی تھی وہ اکثر ہمیں یہ بتایا کرتے تھے کہ اس مسجد کو میرے سب بیوی بچوں نے مل کر تعمیر کیا ہے۔اور اس کی تعمیر کا ہر کام اپنے ہاتھوں سے خوشی خوشی کیا ہے۔انہوں نے ہمیں یہ بھی بتایا تھا کہ ہم نے صرف ایک معمار باہر سے لگایا ہوا تھا۔باقی سب کام ہم خود کیا کرتے تھے۔اور اینٹیں اور گارا اٹھاتے وقت خدا کے حضور یہ دعائیں کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ہم نے تیرا گھر بنانے کا تہیہ کیا ہے اب تیرا کام یہ ہے کہ آپ اس آبادی کے لئے یہاں ایک ایسی جماعت پیدا کر دے جو تیرے امام کی اطاعت میں تبلیغ اسلام کا فریضہ بجا لانے والی ہو۔ان کی اہلیہ محترمہ بھی ایک پاکباز اور راستباز خاتون ہیں وہ گھر میں روڑی کو ٹتے وقت اور مسجد کی تعمیر کے دوسرے کام کرتے وقت قرآن مجید کی آیات تلاوت کیا کرتی تھیں اور خدا کے حضور دعائیں کیا کرتی تھیں اس طرح ان سب نے مل کر جھانسی کے محلہ علی غول میں خدا کا گھر تعمیر کیا تھا اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں اس وقت تک لاکھوں کروڑوں مسجدیں بنائی جا چکی ہیں اور آئندہ بھی لاکھوں اور کروڑوں مسجدیں بنائی جائیں گی لیکن جس رنگ میں منشی محمد خالد مرحوم نے جھانسی میں احمدیہ نورانی مسجد تعمیر کی ہے وہ سنت ابراہیمی کا ایک عملی نمونہ ہے۔اللہ تعالے اُن کے درجات بلند کرے۔آمین ثم آمین به م خان بهادر نواب احمد نواز جنگ بها در حیدر آباد کسی روفات ، بیری) مکرم شیخ محمود الحسن صاحب (۶/۲۹۵ سرور روڈ لاہور چھاؤنی پاکستان ) کا بیان ہے :- حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب احمدی ہونے کے بعد اپنے تمام قریبی رشتہ داروں کو احمدیت کی تبلیغ متواتر کیا کرتے تھے چنانچہ ان کی بڑی بہو فیض النساء بیگم کے نانا حضرت ابراہیم بھائی الہ دین نے احمدیت قبول کی اور صاحب کشف و رڈیا کے مدارج پر فیضیاب ہوئے اس طرح اپنے سمدھی حضرت فاضل بھائی ابراہیم کو بھی احمدیت کی قبولیت کی سعادت نصیب ہوئی، مگر اُن کی دلی خواہش تھی کہ اُن کے تین سوتیلے بھائی جو سب اُن سے چھوٹے تھے وہ بھی اس سعادت سے حصہ روز نامہ الفضل " لاہور ۲۱۰ زنبوک و راشد بمطابق ۲۱ ر ستمبر ۱۹۵۷ء مث۔ے •