تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 426 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 426

نے بخوشی قبول کر لیا اور ہمیں جواب دیا کہ خواہ کچھ ہو۔میں اس دفعہ انشاء اللہ ضرور قادیان آؤں گا اور دیار محبوب کی زیارت کروں گا۔چنانچہ وہ حسب وعدہ جلسہ سالانہ پر تشریف لائے اخلاص تو ان میں پہلے ہی بہت تھا۔لیکن وہ سب غائبانہ تھا۔جب انہوں نے دیار محبوب اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی زیارت کی تو انہیں ایسی لذت محسوس ہوئی کہ پھر وہ ہر سال جلسہ سالانہ پر تشریف لاتے رہے چونکہ خدا کے فضل و کرم سے ان کے بال بیچے کافی تھے اس لئے وہ باری باری اپنے بچوں کو قادیان ساتھ لاتے رہے اس طرح انہوں نے ایک مرتبہ اپنے تمام بچوں کو قادیان کی زیارت کروا دی۔اور اس کی بے حد خوشی منائی کہ میرے تمام بچوں نے خدا کے پیارے مسیح کی بسنتی دیکھ لی ہے اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ احمد کی زیارت کر لی ہے۔وہ جب بھی ہمیں ملتے بہت محبت سے ملتے۔ہمیں بسلسلہ تبلیغ متعدد مرتبہ جھانسی جانے کا اتفاق ہوا۔ہر مرتبہ وہ ہمیں اپنے پاس ٹھہراتے اور ہمارے آنے پر بہت خوشی محسوس کرتے ہم جتنے دن وہاں ٹھہرتے وہ ہمیں اپنے حلقہ احباب سے ملواتے اور تبلیغی مجالس قائم کرواتے ایک دو مرتبہ تو انہوں نے اپنے مکان کے سامنے جلسہ کر وا کہ ہماری تقریریں بھی کروائی تھیں۔خدا کے فضل وکرم سے جھانسی میں ان کی نیکی کی اچھی شہرت تھی اور لوگ ان کا کافی احترام کرتے تھے۔جھانسی میں ان کا مکان کافی کھلی جگہ میں تھا۔اس کے ایک حصہ میں انہوں نے ایک اچھی مسجد بھی بنوائی ہوئی تھی۔اس مسجد میں بیک وقت سو ڈیڑھ سو آدمی نماز پڑھ سکتے تھے۔اس مسجد کا نام انہوں نے بعض خوابوں کی بنا پر احمدیہ نورانی مسجد" رکھا ہوا تھا۔یہ مسجد انہوں نے بغیر کسی اور صاحب سے کوئی امداد لئے خود آپ ہی آہستہ آہستہ بنائی تھی۔چنانچہ جب ہم پہلی مرتبہ جھانسی گئے تو ان کے بچوں نے ہمیں بتایا کہ ہمارے والد صاحب کا ارادہ یہاں مسجد بنانے کا ہے دوسری مرتبہ ہم گئے تو وہاں چھوٹی چھوٹی دیواریں بنائی ہوئی تھیں جو کہ پتھر اور چونہ سے بہت خوبصورت تعمیر کی ہوئی تھیں۔تیسری مرتبہ ہم گئے تو وہ دیواریں چھت تک پہونچ چکی تھیں۔لیکن ابھی ان پر چھت نہیں ڈالی گئی تھی۔چوتھی مرتبہ ہمارے جانے سے قبل اس مسجد پر چھت بھی ڈالی جا چکی تھی اور خدا کے فضل وکرم سے مسجد مکمل ہو چکی تھی، چنانچہ ہم سب نے مل کر وہاں ایک جمعہ بھی پڑھا تھا جو مولا نا عبد المالک خان صاحب نے پڑھایا تھا اس جمعہ کی نماز میں محمد خالد صاحب کرم کے تمام بال بیچے شامل ہوئے تھے۔