تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 423 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 423

۰۵م ان کا ایک نمایاں وصف جو قابل رشک و اقتداء ہے وہ اولاد کی تربیت کرنا ہے جمعہ کی نماز میں آپ اپنے تمام بچوں کو ساتھ لاتے۔الحاج مرحوم نے اپنے گھر میں احمدیت کا ماحول پیدا کر دیا تھا۔ان کا گھرانہ اس لحاظ سے قابل رشک تھا۔لے ۲ محترم جناب خان بہادر سعد اللہ خاں صاحب۔خشک احمدی رئیس اعظم موضع صور امیرو تھا نہ نظام پور ضلع پشاور وفات ۳۱ اگست ۱۹ ء - حضرت قاضی محمد یوسف صاحب امیر صو سرحد تحریہ فرماتے ہیں :- " آپ ملک خوشحال خان خٹک ڈشہور خان قوم د شا عر زبان پشتو و فارسی بزمانه اورنگ زیب عالمگیر گذرے تھے ) کی نسل سے تھے۔اور قوم خٹک میں قدوقامت خوبصورت اندام اور جوان رعنا ہونے کی وجہ سے دلکش انسان تھے۔نہایت متین سنجیدہ طبع اور حسن اخلاق کا مجسمہ تھے ہر شخص سے خواہ امیر ہو یا غریب حسن سلوک سے پیش آتے گویادہ اسی کے ہیں۔بستی طبیع۔فیاض ، مہمان نواز، مسافر نواز - خوش طبع سلامت رو انسان تھے۔اپنی قوم خٹک ضلع پشاور و کوہاٹ میں بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے۔اور قوم ان کی دلدادہ اور قدر دان تھی ابا عن جد رئیس قوم تھے۔روساء ملک میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔موضع خوشحال گڑھ ضلع کو بات آپ کی جاگیر تھی۔دو شادیاں کیں۔مگر اولاد نہ تھی۔آپ سوات میں عرصہ دراز تک صوبیدار میجر رہے مالا کنڈ آپ کا صدر مقام تھا۔سوات پر انگریزوں کا قبضہ شہداء میں ہوا۔تالیا پہلا صوبیدار میجر شہزادہ محمد نادر جان درانی ساکن پشاور تھا اور ان کے بعد غالبا نشا ء میں خان بہادر صاحب دوسرے صوبیدار میجر ہوئے جو اس تک رہے۔آپ کی پیدائش غالبا ماء کے قریب ہوئی۔آپ نے اپنے زمانہ کے لحاظ سے فارسی اردو میں تعلیم پائی۔اور سوات میں خدا جانے کب مگر غالباً آغاز جوانی میں ملازم ہوئے بانشاء سے صوبیدار میجر ہوئے خدمات حسنہ کے باعث حکومت وقت نے خان بہادر کا خطاب دیا۔مالا کنڈ میں آپ کی قیام گاہ حکام ایجینسی و عہدیداران کی تفریح گاہ تھی جہاں مہمان نوازی کے واسطے لنگر خانہ ہر وقت جاری رہتا اور چائے کا دور سلسل جاری رہتا۔ه روزنامه الفضل لاہور ۱۶ رجون ۱۹۵۴ و مث۔