تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 422 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 422

۴۰۴ (۱) صابرہ بیگم صاحبہ (اہلیہ بابو عبد اللطيف صاحب )۔(۴) پاخیزه بیگم صاحبہ (اہلیہ ڈاکٹر مبارک احمد صاحب )۔ان بلند پایہ صحابہ کے علاوہ اس بعض دیگر مخلصین احمدیت کی وفات سال مندرجہ ذیل مخلصین احمدیت بھی وفات پاگئے :۔١- الحاج السيد عبدالروف الحصنى دمشقی : - (دفات ۲۴ اپریل ۹۵ ) - آپ جماعت احمدیہ دمشق کے سابق امیر اور السید منیر الحصنی (موجودہ امیر وشق) کے چھوٹے بھائی اور الهام يُصَلُّونَ عَلَيْكَ ابْدَالُ الشام" کے مصداق تھے جیسا کہ مکرم شیخ نور احمد صاحب منير مبشر بلا د عربیہ کے مندرجہ ذیل مطبوعہ نوٹ سے نمایاں ہے۔آپ فرماتے ہیں جہ الحاج مرحوم جماعت دمشق میں اخلاص اور ایثار کا نمونہ تھے بسلسلہ کی تمام مالی تحریکات میں ایک مثال رکھتے تھے۔ہفتہ واری میٹنگ میں شمولیت ، نماز جمعہ میں باقاعدگی ، ضیافت خندہ پیشانی سنجیدگی اولاد کی تربیت ، چغلی سے نفرت ان کی نمایاں خوبیاں تھیں قدرنا نورانی شکل رکھتے تھے۔انہی اوصاف کی وجہ سے جماعت دمشق نے ان کو پریزیڈنٹ منتخب کیا۔مرحوم خدام سلسلہ سے محبت رکھتے تھے سلسلہ کے کئی مبلغین کرام مین کو مشق سے گزرنے کا اتفاق ہوا ہے ان کو مشہور اور تاریخی مقامات کی زیارت کرواتے۔اُن کے ساتھ ہوا خوری کے لئے نکلتے اور ان کی ملاقات کے لئے بار بار آتے مجھے دمشق میں تین سال رہنے کا اتفاق ہوا اور میں نے مرحوم کو سلسلہ کے لئے قابل قدر اور مفید وجود پایا۔ایک دفعہ الحاج عبد الرؤف اور عاجز دمشق کے سر سبز مقام ربوہ گئے۔راستے میں کہنے لگے۔کہ احمدیت کا مجھ پہ بہت بڑا احسان ہے احمدیت نے مجھے صحیح راستہ پر چلا دیا۔قرآن کریم سے ان کو عشق تھا۔تفاسیر سننے کے ہمیشہ مشتاق تھے۔کانوں میں نقص کی وجہ سے وہ اونچی سنتے اس لئے وہ پاس بیٹھ کر اور خاص توجہ سے سننے کے عادی ہو چکے تھے تجوید اور قرأت سیکھا کرتے حج دوسری مرتبہ کہنے کا ارادہ تھا۔اور حج سے واپسی پر حضرت سید نا خلیفہ اسیح الثانی ایده الله مبصرہ العزیز اصحاب امسیح الموعود علیہ السّلام اور قادیان کی زیارت کرنے کے خواہش مند تھے افسوس کہ ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی۔