تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 424 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 424

ان ایام میں میرے محترم حافظ حضرت منظفر احمد صاحب کلانوری سوات بمقام مالا کنڈ ہے حوالدار تھے۔جو پابند صوم و صلوۃ تھے۔تہجد خوان اور حافظ قرآن تھے اور خاکسار کی تحریک سے بمقام کوچہ بہار شاہ پشا در رجہاں انہوں نے مولوی محمد حسین صاحب اور مولوی نذیر حسین صاحب ساکنان کلانور کے گھر شادی کی تھی۔یہ شادی ان کا نکاح ثانی تھی ، حضرت احمد قادیانی علیہ السّلام کی بیعت کی تھی۔محترم حافظ حضرت مظفر احمد صاحب نے موقع پا کر ایک دن شاء میں خان بہادر موصوف کو اُن کے روز مرہ زندگی گذارنے کی طرزہ کی طرف متوجہ کیا اور ان کے اصلاح کرنے کی طرف توجہ دلائی۔اور کہا کہ آپ چالیس دن باقاعدہ نماز باجماعت پڑھیں اور تہجد بھی پڑھا کریں اور درس قرآن کریم کم از کم ایک رکوع روزانہ کر یں۔اگریہ صورت پسند نہ آئے تو پھر موجودہ زندگی کا اختیار کر لینا تو مشکل نہیں۔چنانچہ خان موصوف جو فطرتاً نیک اور سعید انسان تھے انہوں نے یہ مشورہ قبول کر لیا۔اور تمام فضولیات اور لغویات جو خلاف شریعت تھیں ترک کر کے بڑے اخلاص سے پابندی صوم و صلوٰۃ کی طرف مائل ہوئے۔اور چالیس دن تک بڑے انہماک سے یہ نیا مشغلہ جاری رکھا۔اپنے سابقہ طرز عمل سے تو بہ کر کے حضرت مولوی نور الدین خلیفہ مسیح اول رضی اللہ عنہ کے دست مبارک پر داخل احمدیت ہوئے۔یہ اشارہ تھا۔الحمد للہ۔وہ تبدیلی اختیار کی کہ آپ ولی اللہ بن گئے۔ایک دفعہ مالا کنڈ کے قدیمی دوست قاضی محمد احمد جان صاحب جو احمدیت کے مخالف تھے اور قابل عبرت سزا پاچکے تھے چند اور افسر ساتھ لے کر خان بہادر موصوف کے پاس بطور جرگہ آئے۔اور کہا کہ خان صاحب ہم کو یہ سن کر کہ آپ احمدی ہوئے ہیں سخت صدمہ اور افسوس ہوا ہے۔کیا اچھا ہو گا اگر آپ پھر تو بہ کر لیں۔خان بہادر صاحب نے جواب دیا کہ جب میں آپ کی طرح مسلمان تھا تو آپ کو معلوم ہے کہ آپ صاحبان کی مہربانی سے نہ نماز پڑھتا نہ تہجد نہ قرآن کریم سے کوئی واقفیت یا تعلق تھا سارا دن تائش اور شطر نیچے میں گذرتا اور لڑکے آکر ناچتے۔خدا بھلا کرے ہمارے مولوی مظفر احمد صاحب کا جن کے نیک نصائح اور پاک صحبت نے اس گندی زندگی سے بیزار کرا کہ پابند نماز و تہجد کیا۔اور درس قرآن کا شوق دلایا۔اگر اسلام یہ نہیں جو احمدیت کے ذریعے حاصل ہوا اور اسلام دراصل وہ تھا جو میں آپ لوگوں کی رفاقت میں اختیار کر چکا تھا۔تو مجھے یہ کفر اسلام سے پسندیدہ ہے۔اس پر وہ لوگ شرمندہ ہوئے اور اُٹھ کر چلے گئے۔بڑی خوبی یہ تھی کہ آپ کو غصہ نہ آتا تھا بڑی نرمی اور معقولیت اور میٹھی زبان میں معترض کو جواب