تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 418
م آج مرحوم کی روح بھی خوش ہو گی۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ عقائد میں جس قدر اختلاف ہے۔اللہ تعالے اس کو دور فرما کہ ایسی حقیقی صفائی فرمائے جس کے بعد کوئی کدورت باقی نہ رہے۔اور ہم سب کا خاتمہ بالخیر کرنے اور اپنے عذاب سے پناہ میں رکھے۔اللهم آمین خاکسار مرزا محمود احمد " له مولانا شیخ عبد القادر صاحب (سابق سوداگر مل ) " لاہور تاریخ احمدیت " میں تحریر فرماتے ہیں کہ : حضرت حکیم مرہم مینی صاحب قرآن مجید کے عاشق تھے۔آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم حضرت مسیح موعود علیہ السّلام حضرت خلیفہ المسیح الاول اور حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ سے از حد محبت رکھتے تھے۔چنانچہ حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ منصرہ العزیز کو جب ایک شقی القلب مخالف نے نماز کے بعد مسجد مبارک ربوہ کے محراب میں گردن پر چاقو مارا تو آپ یہ سن کر بے چین ہو گئے ہسپتال میں بیمار تھے۔آنکھ کا تازہ تازہ اپریشن ہوا تھا۔مگر آپ اُسی وقت اٹھ کھڑے ہوئے اور جب تک ربوہ پہنچ کر حضرت خلیفہ المسیح کی عیادت نہیں کر لی چین نہیں لیا حضرت مسیح موعود علیہ السّلام اور حضرت خلیفہ المسیح الاول کے احسانات سُناتے وقت اکثر آبدیدہ ہو جایا کرتے تھے پہلے حضرت حکیم صاحب تہجد گزار اور شب بیدار بزرگ تھے۔نماز با جماعت کے سختی سے پابند تھے۔خلوت میں استغفار اور ذکر الہی کرنا اُن کا عمر بھر معمول رہا۔نہایت درجہ جہمان نواز، الین دین کے معاملات میں صاف اور مخلوق خدا کے شفیق و ہمدرد !! - صحت آخر دم تک نہایت اعلیٰ تھی اور کوئی اُن کی صحت کو دیکھ کر ان کی اچانک موت کا خیال نہیں کر سکتا تھا۔۲۸ اکتوبر ۹۵ او کو اپنی ساری اولاد کو اپنے پاس بلایا اور سب کو پابند دین رہنے کی وصیت فرمائی اور رات کو حرکت قلب کے بند ہونے سے انتقال کر گئے۔اگلے دن جماعتِ احمدیہ لاہور کے کثیر ا حباب نے مولانا عبد القادر صاحب مبلغ سلسلہ کی اقتدا میں نماز جنازہ ادا کی بعد ازاں آپ کی نعش بذریعہ لاری ربوہ لائی گئی۔ه الفضل قادیان ۱۵ ستمبر ۱۹۲۵ م کالم ۳ کو کی کے لاہور تاریخ احمدیت ۱۲۳ مطبوعه ۲۰ فروری ۶۱۹۶۷