تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 417 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 417

۳۹۹ نے یہ بھی بتا دیا ہو گا کہ وہ والد صاحب کی بیعت خلافت ثانیہ کے وقت زندہ نہ ہوں گے اسلئے حضور تے مجھے فرمایا اور میاں چراغ دین صاحب کو اس کے لئے مخاطب نہیں کیا ، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔والد صاحب حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد بغیر مبایعین جماعت کے لیڈروں میں جا ملے اور گیارہ سال بڑے زور سے مبایعین کی مخالفت کی۔میں گیارہویں سال میں حضرت خلیفہ ثانی کی اگر بیعت کر لی۔اور اس طرح حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی وہ بات پوری ہوگئی۔الحمد لله على ذلك۔حضرت میاں چراغ الدین صاحب ۱۲ ء میں فوت ہوئے تھے اور والد صاحب نے ۱۹۳۵ء میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالے کی بیعت کی تھی پیسہ حضرت مصلح موعودؓ کو آپ کی بیعت پر بہت خوشی ہوئی۔اور حضور نے آپ کی درخواست ببعیت کے جواب میں حسب ذیل خط ارقام فرمایا :- حکم می حکیم محمد حسین صاحب ! السّلام علیکم۔آپ کا بیعت کا خط پڑھ کہ مجھے نہایت خوشی ہوئی۔دو وجہ سے ایک تو اس تعلق کی وجہ سے جو اس فتنہ سے پہلے آپ میں اور مجھے میں تھا۔آپ کو جو محبت مجھ سے تھی اور جس خلوص سے آپ میرے ساتھ رہتے تھے۔وہ حالت اور موجودہ حالت اس قدر متبائن تھی کہ دل کو اس پر صدمہ اور افسوس ہوتا تھا گو میں خیال کرتا ہوں کہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت تھی۔اگر بعض نہایت ہی محبت کر نیوالے احباب اس موقع پر الگ ہو کر مقابل پر کھڑے نہ ہوتے تو شاید دشمنوں کا یہ اعتراض کہ میں نے کوئی سازش کی تھی۔بعض لوگوں کے دلوں میں کھٹکتا رہتا۔مگر بعض ایسے لوگوں کا فریق مخالف سے جا ملتا جو ہر وقت پاس رہنے والے تھے اور ہر قسم کے کاموں سے واقف تھے۔اور ان کا اقرار کر نا کہ میں نے کوئی سازش نہیں کی۔خدا تعالیٰ نے میرے لئے بریت کا ذریعہ بنا دیا۔بہر حال پہلے تعلق کو مد نظر رکھتے ہوئے مجھے آپ کے بیعت کرنے سے بہت خوشی ہوئی۔دوسرا سبب آپ کے والد صاحب کا تعلق ہے۔ان کا تعلق اور ان کی محبت عدیم المثال ہے وہ ان خاص لوگوں میں سے تھے جنہوں نے اپنے آپ کو لیے جان کر کے مسیح موعود علیہ السلام کے سپرد کر دیا رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ ان کے اخلاص اور پھر اس محبت کی وجہ سے جو مجھے ان سے بھی مجھے اس امر کی دہری خوشی ہوئی ہے۔اور میں سمجھتا ہوں کہ له الفضل لم, وسمير ١٩٥٢ ء ما