تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 416
٣٩٨ نام ان کے مقرر ہو سکتے ہیں۔آخری بڑی حیث و بحث کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ نام تو یہی رہ ہے مگر وجہ تسمیہ اس مریم کی یہ نہ لکھی جائے کہ حضرت مسیح کے صلیبی زخموں کو چنگا کرنے کے لئے حواریوں نے اس کو بنایا تھا حضرت مسیے تو دوسرے بیماروں کو چنگا کرتے تھے۔اس مرہم نے حضرت عیسی کو چنگا کر دیا۔بہر حال جب یہ فیصلہ ہو چکا تو ہم نے پوسٹروں میں سے اس کی وجہ تسمیہ نکال دی اور اس کی بجائے یہ لکھا کہ یہ مرہم حواریوں نے حضرت عیسی کے لئے بنائی تھی اور یہ مرہم سرطان - خنازیہ بواسیر۔طاعون اور تمام قسم کے زہر یلے چھوڑو کے لئے اکسیر ہے۔اس کامیابی پر تمام اخباروں نے ہمیں مبارک باد دی۔اور اسی مرہم کی وجہ سے ہندوستان انگلستان اور تمام دوسرے ممالک میں میرا نام مرہم عیسی مشہور ہو گیا اور مرہم کی اتنی بکری ہوئی کہ ہزاروں روپے ہم نے اس کی وجہ سے کمائے۔دواخانہ میں اس دوائی کے ذریعے دوسری دواؤں کو بھی بہت شہرت حاصل ہو گئی اور ہم نے اپنے دواخانہ کا نام بھی دواخانہ مرہم عیسی رکھا۔اور اسی نام سے تمام ہندوستان اور دوسرے تمام ملکوں میں یہ دوا خانہ مشہور ہے کیا آپ کی وفات پر ماسٹر نذیر حسین صاحب چغتائی نے ایک مضمون میں تحریر فرمایا کہ :- حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ کے طب میں شاگر د بھی تھے اور آپ سے والہانہ محبت بھی رکھتے تھے حضرت خلیفہ مسیح اول کو بھی آپ سے بے حد درجہ کی محبت تھی حضرت خلیفہ اول نے اپنی وفات سے چند دن پہلے جبکہ خاکسار اور والدم بزرگوار اور دادا صاحب حضرت میاں چراغ الدین صاحب ان کے پاس تھے مجھے مخاطب کر کے فرمایا :- مجھے حکیم محمد حسین صاحب مر ہم عیسی بہت پیارے ہیں گھر میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ میرے بعد مجھے چھوڑ دیں گے۔میری محبت نے مجھے مجبور کیا کہ میں ان کے لئے دعا کروں کہ خدا اس تقدیر کو بدل دے۔تو مجھے بتلایا گیا کہ گیارہ کے بعد یہ پھر میرے ہو جائیں گے۔پھر مجھے مخاطب کمہ کے فرمایا کہ میاں نذیہ تم نے گیارہ کا خیال رکھنا ہے۔اس وقت دادا صاحب حضرت میاں چراغ دین صاحب بھی موجود تھے مگر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خلیفہ اول کو خدا لے کتاب طبی مائة عامل مصنفہ حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسی مٹتا حس مث تا مشا : ا مطبوعہ استعمال پریس لاہور۔مارچ ۶۹ ) -