تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 367 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 367

اور اس سے عمارت آہستہ آہستہ مکمل کی جا سکے گی۔پس اپنے بجٹ کا ایک حصہ خدمت خلق کے لئے وقف رکھو۔جیسے ہلال احمر اور ریڈ کر اس کی سوسائٹیاں کام کر رہی ہیں۔اگر تم آہستہ آہستہ ایسے فنڈز جمع کرتے رہو تو ہنگامی طور پر یہ رقوم کام آجائیں گی۔مثلاً بنگال میں سیلاب آیا تو جماعت کی طرف سے نہایت اچھا کام کیا گیا۔لیکن چونکہ چندہ دیر سے جمع ہوا اس لئے کام ابھی تک جاری ہے۔چندہ جب مانگا گیا تھا تو صرف مشرقی پاکستان کا نام لیا گیا تھا۔پنجا کا نام لیا گیا تھا۔پنجاب کا نام نہیں لیا گیا تاکہ مزید چندہ مانگنے پر جماعت پر مالی بوجھ نہ پڑے۔اگر اس قسم کی رقوم پہلے سے جمع ہوتیں تو جمع شده چندہ ہم مشرقی پاکستان پر خرچ کر دیتے اور ان رقوم میں سے ایک حصہ پنجاب میں خرچ کر دیا جاتا۔پس ہر سال کے بجٹ میں اس کے لئے بھی کچھ مارجن رکھ لیا جائے اور تھوڑی بہت رقم ضرور الگ رکھی جائے۔وہ ہر تم ریزرو ہو گی جو قحط اور سیلاب وغیرہ مواقع پر صرف کی جائیگی۔تم اس کا کوئی نام رکھ لو۔ہماری عزت صرف یہ ہے کہ اس طرح ہر سال کچھ رقم جمع ہوتی رہے جو کسی حادثہ کے پیش آتے یا کسی بڑی آفت کے وقت خدمت خلق کے کاموں پر خرچ کی جاسکے۔جاپان میں زلزلے کثرت سے آتے ہیں۔فرض کرو وہاں کوئی ایسا زلزلہ آجائے جس قسم کا زلزلہ پچھلے دنوں آیا تھا اور اس کے نتیجہ میں دو تین ہزار آدمی مر گئے تھے تو ایسے مواقع پر اگر خدام الاحمدیہ کی طرف سے گورنمنٹ کے واسطہ سے کچھ رقم وہاں بھیج دی جائے تو خود بخود خدام الا حمدیہ کا نام لوگوں کے سامنے آجائے گا۔اس قسم کی مدد سے بین الاقوامی شہرت حاصل ہو جاتی ہے۔اور طبائع کے اندر شکریہ کا جذبہ پیدا کر دیتی ہے۔اگر اس قسم کے مصائب کے وقت کچھ رقم تار کے ذریعہ بطور مدد بھیج دی جائے تو دوسرے دن ملک کے سب اخبارات میں مجلس کا نام چھپ جائے گا۔پچھلے طوفان میں ہی اگر خدام کے مختلف وفود بنادیے جاتے تو تنظیم کے ذریعہ سے باہر کی مجالس سے آدمی منگوا لئے جاتے تو زیادہ سے زیادہ آدمی سیلاب زدہ لوگوں کی امداد کے لئے بھیجے جا سکتے تھے۔مثلا سیلاب کا زیادہ زور لمنان سیالکوٹ اور لاہور کے اضلاع میں تھا۔اگر ان ضلعوں کی مجالس کو منظم کیا جاتا اور باقی مجالس سے مدد کے لئے مزید آدمی آ گنجائش ،