تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 366
۳۴۸ خدمت خلق کے وسیع انتظامات کرنے کی ضرورت بیان کی اور فرمایا :۔پچھلے دنوں لاہور والوں نے جو کام کیا ہے وہ نہایت قیمتی تھا۔لیکن اگر لاہور کی مجلس زیاد منظم ہوتی تو یقینا ان کا کام زیادہ مفید ہو سکتا تھا۔اور اگر لاہور والوں کو منظم ہونے کا احساس ہوتا تو اس کا قاعدہ یہ تھا کہ لاہور والے مرکز کو لکھتے کہ وہ اپنا ایک نمائندہ یہاں بھیج دیں۔پھر وہ نمائندہ دوسری مجالس کو تاریں دیتا کہ تم لوگ یہاں آکر کام کرو۔اس طرح لاہور میں خدمت خلق کا کاس وسیع ہو سکتا تھا۔جب میں نے ربوہ سے معمار بھجوائے تو لاہور میں اتنا کام نہیں ہو سکا جس کی ہمیں امید تھی۔اور اس کی زیادہ وجہ یہی تھی کہ سامان بہت کم تھا معماروں کو وقت پر سامان میسر نہیں آیا۔اگر لاہور والے اس کے متعلق پہلے غور کر لیتے اور ہمیں سامان کا اندازہ لگا کر بھیج دیتے تو یہاں سے معمار کام کا کا اندازہ لگا کر بھیجے جاتے۔آب انہوں نے خدمت بھی کی لیکن کام زیادہ نہیں ہوا۔اگر سامان کم تھا تو ہم کچھ معمار اس وقت بھیجی دیتے اور باقی معماروں سے کسی اور وقت کام لے لیتے۔انسان آنریری خدمت ہر وقت نہیں کر سکتا۔آخر اس نے اپنا اور بیوی بچوں کا پیٹ بھی پالنا ہوتا ہے۔بہر حال اس قسم کے تمام کام اسی وقت محمدگی سے سر انجام دیئے جا سکتے ہیں جب مجالس ایک دوسری سے تعاون کریں سیلاب کے دنوں میں باتی جماعتوں نے بھی کام کیا ہے لیکن لاہور کی جماعت نے جیسی قسم کا کام کیا ہے اس سے انہیں ایک خاص معیار حاصل ہو گیا ہے۔موجودہ قائد خدام الاحمدیہ کے اندر وقت کا احساس ہے۔میں جب لاہور گیا اور میں نے ربوہ کے معماروں کے بنائے ہوئے مکانوں کو خود دیکھا تو ایک جگہ ایک کمرہ تعمیر کرنے کے لئے میں نے انہیں اندازہ بھیجنے کی ہدایت کی۔غور کرنے والے تو شائد اس پر کئی دن لگا دیتے لیکن انہوں نے اندازہ گھنٹوں میں پہنچا دیا۔اور پھر اس کی تفصیل بھی ساتھ تھی۔پس تم خدمت خلق کے کام کو نمایاں کرد۔اور اپنے بجٹ کو ایسے طور پر بنیاد کہ وقت آنے پر کچھ حصہ اس کا خدمت خلق کے کاموں میں صرف کیا جا سکے۔قادیان میں یہ ہوتا تھا کہ زیادہ زور عمارتوں پر رہتا تھا۔حالانکہ اگر کوئی عمارت بنانی ہی ہے تو پہلے اس کا ایک حصہ بنا لیا جائے۔کچھ کچھے کمرے بنائے جائیں۔جماعت پڑھنتی جائے گی تو چندہ بھی زیادہ آئے گا