تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 368 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 368

۳۵۰ جاتے اور انہیں بھی امدادی کاموں کے لئے مختلف جگہوں پر بھیجا جاتا تو پھر ان کا کام زیادہ نمایاں ہو جاتا۔پھر یہ بھی چاہئیے کہ حالات کو دیکھ کر غور کیا جائے کہ کیسی رنگ میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔لاہور میں میں نے دیکھا ہے کہ بعض جگہ چھپر ڈال کر لوگوں کو پناہ دی جاسکتی تھی۔اگر شہر کے اردگرد تالابوں سے تنکے اور گھاس کاٹ کو لایا جاتا تو اس سے بڑی آسانی سے چھپر بنا کر چھت کا کام لیا جا سکتا تھا۔اس طرح لکڑی کے جہیا کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔اسی طرح اس قسم کے مواقع پر پکتے مکانات کی ضرورت نہیں ہوتی۔پھسلے کی عمارت کی ضرورت ہوتی ہے۔اور لکڑی کی بجائے بانس اور تنکوں کا چھت بنا دیا جاتا ہے۔لاہور میں کئی ایسی جگہیں تھیں جہاں سردی سے بچاؤ کیلئے چھت کی ضرورت تھی۔یہ سب کام آرگنا ئزیشن سے ہو سکتے تھے۔ہمارے محکمہ خدمت خلق کا یہ کام ہے که نه صرف مجالس کو وہ آرگنائز کرے بلکہ اس قسم کا انتظام کرے کہ اگر کسی جگہ کوئی خرابی پیدا ہو جائے تو کسی طرح ساری جماعت کا زور اس طرف ڈالا جا سکے۔آئندہ میرے پاس رپوڑیں آتی رہنی چاہئیں کہ کس طرح خدمت خلق کے کام کو آرگنائز کیا گیا ہے ؟۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بعض حلقے بنا دیئے بھا ئیں اور ان کی آپس میں آرگنا ئزیشن کی جائے جیسے زونل سیسٹم ہوتا ہے اس طرح صویہ کے مختلف زدن مقرر کر دیئے جائیں۔مثلاً یہ کہا جا سکتا ہے کہ ملتان کے اردگرد سوسوئیل کا ایک زون بنا دیا جائے۔اس علاقہ میں آبادی کم ہے۔اس لئے اس سے بڑا زون بھی بنایا جا سکتا ہے۔پھر ہر زون میں خدمت خلق کا ایک آفیسر مقرر کر دیا جائے۔جو مصیبت آنے پر دوسری مجالس کو تار دے دے کہ فلاں جگہ پر مصیبت آئی ہے۔امدادی کاموں کے لئے خدام بھیج دیئے جائیں۔اس طرح یاد رکھو کہ ہمارا ملک ایسے حالات سے گزر رہا ہے کہ اس میں نہ صرف بڑے طوفان آ سکتے ہیں بلکہ طوفان لائے بھی جا سکتے ہیں۔ہم نچلے علاقہ میں ہیں اور ہندوستان کی حکومت اوپر کے علاقوں پر قابض ہے اور وہ پانی چھوڑ کر طوفان لاسکتی ہے۔پھر لاہور میں امدادی کاموں کے سلسلہ میں جو دقت پیش آئی تھی اس کے متعلق دریافت کرنے پر مجھے بتایا گیا کہ اس موقعہ پر بھٹہ والوں نے بد دیانتی کی۔ان لوگوں نے اس موقعہ پر اینٹ کو مہنگا کر دیا۔اگر اس قسم کی تحریک کی جاتی کہ جماعتیں مل کر ان کو توجہ دلائیں کہ ایسے موقعہ پر آپ لوگوں کا بھی فرض ہے کہ مصیبت زدگان کی امداد کریں تو یقیناً وہ کم قیمت پر اینٹ سپلائی کرتے