تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 315
پکڑے ، اس ہاتھ میں جو کیفیت گرم لوہے کو پکڑنے کے وقت پیدا ہوتی ہے۔وہی کیفیت اس ملبن کی تھی جو زخم کے اوپر کے حصہ میں درد کے ساتھ ساتھ محسوس ہوتی تھی۔" بیماری کی اس کیفیت کے باوجود حضرت مصلح موعود نے سندھ میں اپنی دینی تنظیمی اور اصلاحی سرگرمیوں کو جاری رکھا۔اسی دوران کراچی، کوئٹہ، پشاور اور ربوہ سے متعد د خطوط حضور کی خدمت میں موصول ہوئے جن میں یہ درخواست کی گئی منفی کہ زخم کا ڈاکٹر سے معائنہ کرانا چاہیئے۔لیکن حضور نے فیصلہ فرما یا کہ اب آخری ایام میں چند دنوں کے بعد لاہور چلے جانا ہے۔ربوہ جانے کے بعد لاہور جاؤں گا لے لے۔چنانچہ حضور جلد ہی ناصر آباد سے پنجاب کوانہ ہو گئے۔اور یکم تبوک ستمبر کو ربوہ میں رونق افروز ہوئے سیکے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب وسط ۱۹۵۴ء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی علالت اور قیام لاہور کوشدی طور پر ہار ہوگئے پہلے تقرص کی تکلیف ہوئی پھر ۲۹ جون ۱۹۵۲ء کو یک دم نقاہت بہت زیادہ ہوگئی اور تنفس بھی بہت زیادہ تیز ہوگیا۔الفضل ۴ ار تبوک ۱۳۳۳ بیش ار ستمبر ۱۹۵۴ء ص ۳ حضرت مصلح موجود سفر سندھ سے واپسی کے بعد بغرض علاج تین بار لاہور تشریف لے گئے۔۱ - ۱۳ تا ۱۶ تبوک ستمبر ۲- ۳۰ اخا ر کنو به تا یکم نبوت / نومبر ۳- ۲۰ تا ۲۲ دسمبر فتح دوسرے سفر میں حضور نے مولانا عبدالرحیم صاحب در و ناظر امور عامہ کی دختر نیک اختر رضیہ درد صاحبہ کی تقریب رخصتانہ میں اور تیسرے سفر میں قاضی محمد شریف کے صاحبزادے کیپٹن ارشد محمود جاوید صاحب کی دعوت ولیمہ میں شرکت فرمائی حضور نے محترمہ رضیہ درد صاحبہ کا نکاح اور دسمبر سال کو محترم مسعود احمد صنا عاطف پر فی تعلیم الاسلام کا لج ربوہ سے پڑھا اور کیٹین ارشد محمود جاوید صاحب کا نکاح محترم کرنل تقی الدین احمد صاحب آئی ایم ایس کی صاحبزادی فرحت سلوبا کے ہمراہ تیسرے سفروں ہور کے دوران پڑھا تھا۔د رپورٹ سالانه صد را نمین احمدیہ پاکستان ۵۵-۱۹۵۴ء صفحه در رالفصل ۲ نبوت ۱۳۳۳ هش/ نومبر ص ۱ - المفضل ۲۲ فتح ۱۳۳۳ هش/ دسمبر ۱۹۵۴ء ص ا کالم ۲) سے الفصل ۲ تبوک ۱۳۳۳ ش ص ۱