تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 314
کی وجہ سے ملے گا اور تیسر اثواب تمہیں اس لئے لے گا کہ تم نے فصلوں پر محنت کی اور اچھی نگرانی کر کے سلسلہ کے مال کو بڑھایا اور کسی کو تین گنا ثواب مل جانا تو ایک لوٹ ہوتی ہے۔اگر تمہارے پاس ایک سو روپیہ ہو جو اگلے سال تین سو ہو جائے۔اس سے اگلے سال نو سو ہو جائے۔اس سے اگلے سال ستائیں سو ہو جائے تو پچاس سال کے اندر ساری دنیا کی دولت تمہارے پاس آجاتی ہے پس تین گنا ثواب کوئی معمولی ثواب نہیں۔یہ ایک کوٹ ہے جس کا کوئی شاہی خزانہ بھی متحمل نہیں ہو سکتا۔پس اللہ تعالیٰ نے جو تمہیں موقعہ دیا ہے۔اس سے فائدہ اٹھاؤ۔ہمیں بھی جتنے سامان میسر آئے ان سے ہم تمہیں فائدہ پہنچانے کی کوشش کریں گے۔لے حضور نے ۲۰ ظہور / اگست کو ناصر آباد میں جو خطبہ ارشاد فرمایا وہ اس مضمون پر مشتمل تھا کہ اگر دیندار بننا چاہتے ہو تو ان سارے طریقوں کو اختیار کر وجو دینی ترقی کے لئے ضروری ہیں۔اور جو شخص پورے طور پر نہ دین کا بنتا ہے نہ دنیا کا خدا تعالی اس کی مدد نہیں کرتا۔سے ظہور / اگست کا مجمعہ حضور کے سفر سندھ کا آخری جمعہ تھا جس میں حضور نے نہایت لطیف اور موثر پیرا یہ میں اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ اگر انسان سیکھنے کی نیت رکھے تو زمین کی اینٹیں، پہاڑوں کے درخت اور جنگلوں کی جھاڑیاں بھی اس کے لئے قرآن و حدیث کی تفسیر بن جاتی ہیں۔نیز بتایا کہ انسانی ترقی کا اصل گریہ ہے کہ جو چیز اسے اچھی نظر آئے اسے مضبوطی سے پکڑے سے اس سفر میں حضور عب ناصر آبا د تشریف لے گئے تو شروع شروع میں تو یہ معلوم ہوا کہ آب و ہوا کی وجہ سے پہلے کی نسبت زخم کی تکلیف میں افاقہ ہے۔لیکن بعد میں ٹھنڈی ہوا چلنے سے گردن کا کھچاؤ بھی بڑھنے لگا اور ورم اور درد بھی زیادہ ہوناشروع ہوگیا۔اور بعض اوقات معمولی سے جھٹکے کے ساتھ گردن میں پہنچ پڑ جاتا تھا۔اور جیسا کہ حضرت مصلح موعود نے بعد میں خود بیان فرمایا کہ : اس درد کے ساتھ زخم کے اوپر اس قسم کی جلن محسوس ہونے لگی جیسے کوئی شخص لوہا تپاک ہاتھ میں له روزنامه الفضل لاہور ما ظهور ۱۳۳۳ ، مش ۱۸ اگست ۱۹۵۴ ه ص ۴-۵ / له الفضل مرتبوک ۱۳۳۲ مش / ستمبر ۹۵له ص ٣-٤ الفضل ۲۹ تبوک ۳۳۳ مش ر ستمبر ۹۵ ر م ۳-۴