تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 298 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 298

۲۸۱ فیصلوں کی اطلاع بھی نمائندگان کو پہنچتی رہی۔مشاورت کے دوسرے دن حضرت مصلح موعود سے جماعت احمدیہ کی والہانہ عقیدت و محبت اور اسلام و احمدیت کی خط ایثار و قربانی کا بہت شاندار مظاہرہ دیکھنے میں آیا تفصیل اس اجمالی کی یہ ہے کہ حضرت مصلح موعود پر حملہ کے بعد ایک حفاظتی کمیٹی مقرر کی گئی تھی جو چو ہدری عبد اللہ خان صاحب امیر جماعت کراچی پیجر دارد احمد صات اور حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پشتمل تھی۔اس کمیٹی کو تمام حالات پر تفصیلی غور کرنے کا موقعہ ملا مشاورت کے دوسرے روز حفاظتی تدا پر یہ جب خصوصی بحث کا آغازہ ہوا تو سب سے پہلے اس کمیٹی کے رکن چو ہدری عبداللہ خانصاب نے مفصل تقریہ فرمائی جس کا خلاصہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔آپ نے فرمایا :- جو حفاظتی امور میں بیان کروں گا۔ان کے دو جیتے ہیں اول یہ کہ حفاظتی تدا پر یہ کیا خراج کرنا چاہیے ؟ دوسرے ہمیں حضور کی حفاظت کے لئے کیا تدابیر اختیار کر نی چاہئیں ؟ جو واقعات پچھلے دونوں ہوئے ہیں میں چاہتا ہوں کہ ان پر عام عقلی نظریہ کے تحت غور کیا جائے ہمیں یہ بھونا نہیں چاہیئے۔کہ حضور نے جماعت کی خاطر لا تعداد قربانیاں کی ہیں۔آپ نے حملہ کے معا بعد جماعت کے نام جو پیغام دیا۔اُس میں جماعت کے دوستوں کو مخاطب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا۔کہ میں تم سے اپنی بیویوں اور بچوں سے بھی زیادہ محبت کرتا ہوں، آپ نے یہ بات جذبات کو اپیل کرنے کی خاطر بیان نہیں فرمائی بلکہ آپ نے ایک حقیقت کو بیان فرمایا ہے۔اور واقعہ یہی ہے کہ حضور نے سلسلہ کی خاطر اپنی جان اور مال پیش کرنے سے کبھی دریغ نہیں کیا۔آپ سے دشمن کو ذاتی طور پر کوئی عناد نہیں۔آپ پر قاتلانہ حملہ محض جماعت احمدیہ کا خلیفہ ہونے کی وجہ سے ہوا ہے اور پھر یہ خلیفہ ہونے کی وجہ سے ہی نہیں۔بلکہ اس اعلیٰ راہ نمائی کی وجہ سے ہوا ہے۔جو اپنی خلافت کے زمانہ میں آپ جماعت کی کرتے چلے آئے ہیں۔گذشتہ زمانہ میں آپ نے جماعت سے عملی طور پر کسی محبت کا اظہار فرمایا۔اس کا علم ہراس شخص کو ہے جس نے ان دنوں میں حضور کو دیکھا۔آپ کو ان دنوں کھانے پینے اور آرام کرنے کا کوئی خیال نہیں تھا۔آپ میابی اور بے قراری کے ساتھ اس طرح پھرتے تھے کہ ایک ماں بھی سمجھوں کی خاطر اس قدر بے تاب اور بے قرار نہیں ہوتی۔پھر جب مالی قربانی کا سوال پیدا ہوا، تو آپ نے اپنا مال پیش کر دیا۔اور اس قربانی میں جماعت کا کوئی فرد آپ سے سبقت نہ لے جا سکا۔ایک بات یہ بھی یاد رکھنی چاہیئے۔کہ سلسلہ نام اس مجموعہ افراد کا ہے جو بیاں بیٹھے میں سلسلہ نام ہے اس جماعت کا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام نے پیدا کی اور