تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 297 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 297

جماعت احمدیہ کی پینتیسویں مجلس مشاورت ۰۱۷ ۱۷- ۱۰ را پیریل ۱۹۵۴ ۱۹۵۴ء کی مجلس مشاورت ۱-۱۲- مر شہادت ۱۳۳۳اہش کو لجنہ اماء اله مرنہ یہ کے ہال میں منعقد ہوئی۔نمائندگان کی تعداد ۴۳۳ تھی۔۲۰ کے لگ بھگ صحابہ شریک اجلاس ہوئے مشورہ کی ہمیں پاکستان اور آزاد کشمیر کے علاوہ بیرونی ممالک کی احدی جماعتوں کے مندرجہ ذیل بارہ نما ئندوں نے بھی شرکت کی۔ا۔سلیم جابی صاحب (شام) ۲ رشید احمد صاحب (امریکی؟ -۳- صالح شبیبی صاحب (انڈونیشیا) ۴- عبدالشکور صاحب کنز سے (جرمنی) ه قاضی عبد السلام صاحب بھٹی (نیٹر بی مشرقی افریقی) ۶ مسٹر ایم جمال دین صاحب کو لمبوری سیلون ) مسٹر ایس جمال دین صاحب (نگبور سیلون) - حکیم فضل الہی صاحب (کولمبو میلون) مولانا نذیر احمد صاحب مبشر (گولڈ کوسٹ) ۱۰ جناب سید شاہ محمد صاحب زمیں التبلیغ (انڈونیشیا) مولانا نذیر احمد صاحب علی ( سیرالیون) ۱۲ - امری عبیدی صاحب (مشرقی افریقہ) اس مشاورت کی ایک غیر معمولی اہمیت یہ تھی کہ جب سے حضرت خلیفہ المسیح الثانی الصلح الموعود پر حملہ ہوا تھا یہ پہلا موقع تھا کہ حضور قصر خلافت سے باہر تشریف لائے اور اپنے خدام کے درمیان رونق افروز ہوئے۔مجلس کے افتتاحی اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا جو اسید سلیم الجابی الشامی نے کی۔بعد ازاں حضور نے ایک مختصر خطاب فرمایا جس میں سجٹ سے متعلق قیمتی ہدایات دیں اور بالخصوص نوجوانان احمدیت کو، فرمہ داری کا احساس کرنے اور محنت کی عادت پیداکرنے کی تلقین فرمائی۔اور بتایا کہ اگر ہمارے نوجوان یہ دوار صان اپنے اندر پیدا کریں تو وہ زمین سے آسمان تک پہنچ سکتے ہیں۔حضور نے اپنی نا سانہ کی طبع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ڈاکٹری مشورہ کی رو سے ایک لمبے عرصہ تک آرام کی ضرورت ہے۔اس لئے میں پہلے کی طرح شریک مشاورت نہ ہو سکوں گا۔بعد میں سب کیسٹیاں مقرر ہوں گی جن کی رپورٹوں اور نمائندگان کی آگراد مجھے ساتھ کے ساتھ بھجوائی جاتی رہیں گی۔اور میں ان کے متعلق اپنا فیصلہ دے دیا کروں گا۔نیز ارشاد فرمایا کہ مرزا عبدالحق صاحب امیر جماعت ہائے صوبہ پنجاب شوری کے چیر مین ہوں گے جو میرے بعد مشوری کی کارروائی جاری رکھیں گے۔چنانچہ حضور کی نشاء مُبارک کے مطابق پوری با قاعدگی اور وقار کے ساتھ تینوں روزہ کارروائی جاری رہی۔اور محترم مرزا عبدالحق صاحب حضور کی نیابت میں چیئر مین کے فرائض انجام دیتے رہے۔اسی طرح سب کمیٹیوں کی تجاویز اور نمائندگان شوری کی آزاد بھی ساتھ کے ساتھ حضور کی خدمت با برکت میں پیشیں ہوتی رہیں۔اور حضور کے مبارک |