تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 299
۲۸۲ جماعت ان افراد کا نام ہے۔جنہوں نے احمدیت کو قبول کیا اور حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کا سلسلہ کی خاطر اپنی جان نہیں کرنا اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ آپ کو جماعت کے افراد سے اپنے بیوی بچوں سے بھی زیادہ محبت اور پیار ہے پھر اس وقت جب کہ زخم لگا ہوا ہے حضور کا یہ فرمانا کہ مجھے آپ سے اپنی بیوی بچوں سے بھی زیادہ پیار ہے۔خود اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ جماعت سے کس قدر محبت کرتے ہیں۔اس عظیم محبت کو مد نظر رکھتے ہوئے جو آپ کو جماعت سے ہے ، جو لا پرواہی آپ کی حفاظت کے سلسلہ میں کی گئی۔میں جب اس بات پر غور کرتا ہوں تو مجھ پر اب بھی رعشہ طاری ہو جاتا۔ہے۔میں تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا، ہاں جیسا کہ احباب کو معلوم ہو چکا ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس کو معجزانہ طور پر بچا لیا۔اس مقدس انسان سے بہت سی پیش گوئیاں وابستہ ہیں۔اسلئے اللہ تعالے نے آپ کو محفوظ رکھا۔لیکن جہاں تک ہماری حفاظت کا سوال تھا۔ہم نے خلیفہ وقت کو غیروں کے ہاتھوں میں دینے ہیں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔جب کوئی چاہتا۔آپ پر حملہ آور ہو جاتا جب یہ حالات ہمیں معلوم ہوئے۔تو ہم نے چند حفاظتی تدا پر منظور کیں۔وہ ہیں۔انہیں میں آپ کے علم میں نہیں لا سکتا مجلس شوری چاہے تو ایک اور کمیٹی مقرر کر دے جو ان امور پر غور کر ے بہرحال ان میں سے ہر ایک چیز نہایت ضروری ہے۔ہمیں حضور کی حفاظت کے لئے زمین ، عقل مند اور مضبوط آدمیوں کی ضرورت ہے۔ان کے حصول کیلئے جس قدر بھی رقم خروج ہو ہمیں اس سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔اور اگر حضور ان اخراجات کی منظوری مرحمت نہ فرمائیں۔تو ہمیں آپ کی خدمت میں بار بار التجا کرنی چاہیے کہ حضور منظور عنایت فرمائیں ہم گھراج کا جو اندازہ پیش کیا تھا وہ ۴۴۷۳۵ روپے تھا لیکن میرے نز دیک وہ اندازہ بھی کم تھا کیونکہ بعض باتیں اس وقت نہ یہ بحث نہیں آئی تھیں۔RQUND FIGURE کے طور پر میں سمجھتا ہوں کہ اس سلسلہ میں پچاس ہزار روپے منظور کئے جائیں۔اور حضور کی خدمت میں نہایت مودبانہ درخواست کی جائے که حضوران اخراجات کو منظور فرما لیں لے Security measures چوہدری عبدالله خان صاحب کے بعد چوہدری اسد اللہ خان صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہور نے فرمایا کہ : نے رپورٹ مجلس مشاورت منعقده ۱۶ تا ما را پریل ۱۹۵۳ئه ۲۵۰ تا ۲ į |