تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 296
۲۷۹ مطالعہ کی عادت ڈالنی چاہیئے۔اللہ تعالٰی آپ کو ان امور پر عمل کرنے کی توفیق بخشے۔خاکسار مرزا محمود احمد شاه حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے الفضل کا دور جدید کے عنوان سے لکھا:۔الحمد لقد تم الحد دل کہ ایک لیے وقفہ کے بعد الفضل پھر مرکز سلسلہ سے نکلنا شروع ہو گیا ہے غالباً تر تالیس سال کا عرصہ گذرا کہ سلسلہ احمدیہ کے مرکز قادیان سے حضرت امیر المومنین خلیفة أمسیح الثانی ابد الاله تعالیٰ کے ہاتھ سے الفضل کا اجراء ہوا۔یہ حضرت خلیفہ اسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا زمانہ تھا۔اس کے بعد ہمارا یہ مرکزی اخبار خدا کے فضل سے مسلسل ترقی کرتا گیا حتی کہ کی تعلیم کے دھکے کے نتیجہ میں افضل کو بھی جماعت کی اکثریت کے ساتھ قادیان سے نکلنا پڑا جس کے بعد حالات کی مجبوری کے تحت وہ لاہور سے شائع ہوتا رہا۔یہ گویا اس کے لئے برزخ کا زمانہ تھا اب سات سال کے درمیانی زمانہ کے بعد الفضل پھر بوہ یعنی مرکز سلسلہ نمبر اسے نکلنا شروع ہوا ہے۔الفضل کے اس نئے زور میں تمام جماعت کی دعائیں اس کے ساتھ ہیں۔اور یہ مخلص احمدی کے دل سے یہ صدا اُٹھ رہی ہے کہ مرکز سلسلہ کا بہ پور راجو گویا اب اپنے بلوغ کو پہنچ رہا ہے۔بیش از میش سرعت کے ساتھ بڑھے اور پھیلے اور پھدے اور اس کے پھلوں سے لوگ زیادہ سے زیادہ مستفیض ہوں مگر اس تبدیلی کے نتیجہ میں جہاں جماعت کی یہ ذمہ داری بڑھ گئی ہے کہ وہ اپنے اس مرکزی اخبار کی اشاعت کی توسیع میں پہلے سے بڑھ چڑھے کر حصہ لے اور مرکزہ کی ان صحافتی تاروں کو اور بھی زیادہ وسیع اور مضبوط کر دے جو اسے افراد جماعت کے ساتھ باندھ رہی ہیں۔وہاں الفضل کے عملہ کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ نہ صرف الفضل کو زیادہ سے زیادہ مفید اور دلکش بنائے بلکہ لاہور سے ربوہ کی طرف منتقل ہونے کے نتیجہ میں جو بعض مادی وسائل کی ترقی میں امکانی کمی آسکتی ہے اسے بیش از پیش توجہ اور کوشش کے ذریعہ کم نہ ہونے دے۔اس زمانہ میں پریس کی اہمیت اور اس کے اثر کی وسعت ظاہر عیاں ہے۔سو اب یہ جماعت اور علا الفضل کا مشترکہ فرض ہے کہ افضل کو ہر جہت سے ترقی دے کر اسے ایک الہی جماعت کے شایان شان بنائے۔وكان الله معنا اجمعين (خاکسار مرزا بشیر احمد ربوہ اس کے ن الفضل ۳۱ مفتح ۱۳۳۳ مش/ ۱۹۵۴ء صفحہ ایک الفضل یکم جنوری ۱۹۵۵ء / مطابق یکم صلح ۱۳۳۴ مش مطا