تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 281
۲۶۴ جارہے تھے کہ اتفاقاً ایک احمدی بھائی سے ملاقات ہوگئی۔رات بھر کا سفر تو اسلام کی باتوں میں گزرا، اور وہ صاحب جو احدی تھے۔برابر وقت پر نماز پڑھ لیتے تھے۔احمدی بھائی نے تہجد تک کو سفر میں ملتوی نہ کیا اور پھر جب صبح ہو رہی تھی۔نماز نمبر بھی پڑھ لی۔یہ ایسی چیز ہے جس کو ایک صالح فطرت انسان دیکھ کر تاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔در اصل بات سے بھی کچھ ایسی ہیکہ مسلمان اپنی باتوں کا نقشہ اپنے عمل میں کھینچ دیتا ہے اور اس کسوٹی پر ہم نے احمدیوں کو پور نے اترتے دیکھا ہے۔کتنا افسوس کا مقام ہے۔کہ عقائد کو اختلاف ر عناد کا مرکز بناکر مولانا موصوف کی جان لینے تک کی ٹھان لی گئی۔کہا جاتا ہے مولانائے موصوف عصر کی نمازہ پڑھ کر باہر نکلے ہی تھے کہ کسی شقی القلب شیطان نا انسان نے اُن پر چھرے سے حملہ کر دیا۔اور یہ دار آپ کی گردن پر پڑا۔لیکن یہ خدائے عزوجل کی قدرت کا کرشمہ تھا۔کہ مولانا سے موصوف اس حملہ سے بال بال بچ گئے۔اس کے بعد حملہ آور کو فورادو آدمیوں نے گرفتار کر لیا اس گرفتاری میں ان کے زخم آئے۔اس جملہ سے دنیا کی دوسری قومیں کیا نتیجہ اخذ کریں گی۔کیا اس سے صاف ظاہر نہیں ہوتا کہ مسلمان حبیبی دنیا کی سب سے بڑی قوم جو ہمیشہ سے رواداری اور مساوات کا درس دہراتی آئی ہے۔وہ خود قبل از اسلام کی وحشیانہ حرکات کی حامل ہے۔کیا ایسے حملے کے بعد دنیا کی تو میں ہماری طرف سے پیش کئے جانے والی قرآنی ہدایات کو اپنا رہنما بنا سکتی ہیں۔ایسے جارحانہ عمل کو روکنے کے ہی لئے تو اسلام کا دنیا میں ظہور ہوا۔اگر مسلمان اب بھی سنبھلنا چاہیں تو ان کے لئے موقع ہے کہ ایسے وحشیانہ خیالات کو دور کر کے اصلاح عمل کی کوشش کریں۔ورنہ وہ دن دور نہیں کہ انہیں اعمال کی وجہ سے دنیا میں ان کا نام و نشان بھی نہیں رہے گا۔اور خود بھی تباہ ہو کر رہیں گے۔اور جب خود مسلمان اپنی تباہی کے سامان پیدا کر لیں گے، توارشاد خداوندی کے بموجب ان کو تباہی سے ذرا بھی نہیں بچا سکے گا۔اے حضرت خلیفة المسیح الثانی المصلح الموجو تو نے سالانہ جلسہ حضرت مصلح موعود کا حقیقت افروز بیان پرسی مادر علی کی تفصیل پر بڑی شرح و لسط سے روشنی ڈالی تھی جو حضور ہی کے مبارک الفاظ میں درج ذیل ہے فرمایا :- رو حادثہ مارچ (س) کی دس تاریخ کا واقعہ ہے ، کہ میں عصر کی نماز پڑھنے کے لئے گیا۔نماز پڑھ کے سے بحوالہ بدره قادیان ، را پریل 1