تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 280
۲۶۳ - اخبار دلچسپ (مدراس) نے ۲۰ مارچ ۱۹۵۷ء کے الیشور میں زیر عنوان "مرزا بشیرالدین محمود احمد پر قاتلانہ حملہ لکھا۔یہ نہایت افسوس ناک ذہنیت ہے کہ معمولی سی معمولی چیزوں کو بڑھا چڑھا کر فتنہ و فساد کا مرکز بنا دیتے ہیں۔اور اس ملک میں جہاں اسلامی قوانین کے لئے رات دن چیخ و پکار ہوتی رہتی ہے۔اس اسلام ہی کی خلاف ورزی عمل میں آرہی ہے۔یسلم قوم کی بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے کہ ایک طرف تو بند بانگ اسلامی دعوے ہوں۔اور دوسری طرف ان دھوؤں کا رد عمل شروع ہو جائے اس سلسلہ میں حال کی افسوسناک طلاع سے سنجو بی ظاہر ہو سکتا ہے۔کہ لاہور سے سو میل کے فاصلہ پہ ریوہ نامی مقام پر مولانا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ پر دن دہاڑے محلہ ہوا۔اور وہ بھی کسی غیر قوم کے فرد سے نہیں بلکہ ایک مسلمان کے ہاتھوں۔یہاں یہ بتانا ضروری نہیں کہ حملہ کس لئے ہوا لیکن ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ حملہ کر نے والا کون ہے ؟ اور کس بنا پہ اس حملہ کی اس میں جرات پیدا ہوئی یہ مانی ہوئی بات ہے۔کہ عام طور پر ذاتی عناد پر ایک دوسرے سے اختلافات رونما ہوتے ہیں۔اور فساد کی نوعیت اختیار کر جاتے ہیں۔اگر بنظر غور دیکھا جائے تو یہ اختلاف کسی ذاتی عناد و دشمنی سے نہیں بلکہ عقائد کے اختلاف کی بناپر عمل میں آیا۔یوں تو ہم احمدی نہیں، اور نہ ہی ہم تسلیم کرنے کے لئے تیار ہیں، کہ احمدی اپنے عقائد کے لحاظ سے مسلمان نہیں۔کیونکہ ہمارے پاس ہر وہ شخص مسلمان ہے۔جس کا کلمہ ہمارا کلمہ ہو۔جس کی کتاب ہماری کتاب ہو۔اور جس کا قبلہ ہمارا قبلہ ہو۔اس ضمن میں ہم یہ کہیں گے۔کہ ہم نے احمدیوں کے ساتھ رہ کر دیکھا ہے۔وہ تو آٹھوں پر تبلیغ کا سودا اپنے سر میں سمائے پھرتے ہیں اور جہاں پہر بھی جاتے ہیں اور جو بات کرتے ہیں اس میں اسلام ہی اسلام ہوتا ہے۔اس کا تجربہ تو ہم کو ہار نوجوان بخت دوست اور صحافی بھائی جناب کریم اللہ صاحب نوجوان ایڈیٹر آزا د نوجوان سے ہو گیا ہے۔ان کی باتوں سے پایا جاتا ہے کہ احمدی سوائے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے اور کسی چیز کو اپنا مقصد نہیں بتاتے ہاں یہ سچ ہے کہ وہ حضرت مسیح ناصری کے متعلق اپنے عقائد ہم سے کچھ جدا گانہ رکھتے ہیں لیکن اس بنا پر تو کوئی دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔اور نہ اس سے اسلام کے بنیادی اصولوں میں کوئی اختلاف پیدا ہوتا ہے۔اس سے جدا ہو کر دیکھا جائے تو یہ کہنا پڑے گا کہ وہ ہم سے کہیں زیادہ مذہب اور ملت کے قائل ہیں اور اپنا جینا اور مرنا بھی تو اس کے لئے بتاتے ہیں۔اور بات ہے بھی کچھ ایسی کہ ان احمدیوں کے اشاعت اسلام والے کارنامے بہت شاندار ہیں۔جن کا ہم اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکتے مغربی ممالک میں اسلام کی احمدیوں نے ایک بھاری خدمت انجام دی ہے ، ابھی چند دنوں کی بات ہے کہ ہم بنگلور