تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 282
۲۷۵ جس وقت میں باہر نکلنے لگا۔اور دروازہ کے پاس پہنچا۔یہ میں نہیں کہ سکتا کہ میرا ایک پیر باہر آگیا تھا یا نہیں آیا تھا مگر بہر حال میں دروازہ کی دہلیز کے پاس کھڑا تھا۔کہ پیچھے سے کسی شخص نے مجھ پر حملہ کیا۔وہ حملہ اس شدت سے تھا اور ایسا اچانک تھا۔اور پھر چونکہ وہ حملہ مر کے پاس کیا گیا تھا۔ایک دم میرے حواس پر اس کا اثر پڑا۔اور مجھے یہ نہیں محسوس ہوا کہ کیا ہوا ہے۔مجھے یہ علم ہوا۔کہ جیسے کوئی بڑا پتھر یا دیوار گری ہے اور اس پتھر یا دیوانہ کی وجہ سے میرے حواس مختل سے ہو گئے ہیں۔اس وقت میں اپنے ذہن میں یہ نہیں سمجھتا تھا۔کہ زلزلہ آگیا ہے یا کیا ہوا ہے۔بس مجھے یہ سمجھاتی تھی۔کہ کوئی بڑی سل میری گردن پر آ کے پڑی ہے لیکن ایک جس شعور ہی ہوتی ہے۔اور ایک غیر شعوری ہوتی ہے۔بغیر شعوری جس کے ماتحت میں نے اُس جگہ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔جس جگہ پر چوٹ تھی۔پھر مجھے اتنا یاد ہے کہ مجھے یہ دھندلکا سا معلوم ہوا۔کہ میں گر رہا ہوں۔اور مجھے کوئی شخص سہارا دے رہا ہے۔چنانچہ جو پہرہ دار تھا۔اس نے مجھے گرتے ہوئے دیکھ کہ یہ میں نہیں کہہ سکتا کہ اس کو پتہ لگ گیا تھا کہ کسی نے حملہ کیا ہے یا اُس کو بھی نہیں پتہ تھا۔بہر حال اس نے یہ دیکھ کر کہ یہ گر رہے ہیں۔وہ میرے سامنے آکر کھڑا ہو گیا۔اور اس نے اپنا سینہ لگا کے ہاتھ سے مجھے سنبھال لیا۔اس وقت مجھے یہ یاد ہے کہ مجھے یوں معلوم ہوا جیسے اس کے کان پر کوئی زخم ہے اور میں یہ سمجھنے لگا۔کہ شاید وہی پتھر یا سل جوگری ہے وہ اس کو بھی لگی ہے۔اور اس کی وجہ سے اُسے یہاں زخم آیا ہے۔اس اثر کے بعد اس نے مجھے سہارا دیگر اہم کھینچا یا ہیں دھکتے میں باہر آگیا۔بہرحال مجھ یہ علوم ہوتا تھا کہ جو پھر گیا ہے اس کے دھلنے کی رومیں کہیں نکل کے باہر آگیا ہوں مسجد کے آگے جو دو تین سیڑھیاں بنی ہوئی ہیں۔ان کے اوپر دھکے کے زور میں یا اُس کے کھینچے سے (شاید اُس نے مجھے بچانا چاہا، میرا ایک پیر دیوار کے پرے چلا گیا۔اور ایک ادھر رہ گیا۔وہ ستات الیسی تھی کہ اگر اس وقت وہ شخص دوبارہ حملہ کرتا۔تو میں وہاں سے ہل بھی نہیں سے سکتا تھا۔کیونکہ اس دھکتے میں ایک دیوار میری لاتوں کے درمیان تھی اور ایک ٹانگ نیچے اُتری ہوئی تھی۔اور ایک ٹانگ سیڑھیوں کے اوپر تھی۔خیر اتنے میں کچھ لوگ اندر سے باہر نکل آئے اور انہوں نے کھینچ کر مجھے باہر کیا مگر میں ابھی تک اسی احساس کے نیچے تھا۔کہ شاید کوئی پتھر گیا ہے۔یا دیوار گری ہے یا خبر نہیں کیا ہوا ہے مگر یہ مجھے محسوس ہوتا تھا۔کہ ہاتھ میں نے چوٹ کی جگہ پر رکھا ہوا ہے۔یہ مجھے نہیں پتہ لگتا تھا۔کہ میں نے ہاتھ کیوں رکھا ہوا ہے اتنے میں اندر سے دوسرے دروازہ میں سے کچھ نمازی نکل کر باہر آگئے۔اور وہ میرے سامنے کھڑے ہو گئے ابھی تک کوئی چیز مجھے پوری نظر نہیں آتی تھی۔ان کے چہرے بھی دھندہ کے سے نظر آرہے تھے۔بہر حال