تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 274
Yac غیر مآل اندیشا نہ بھی تھا۔ہمیں یقین ہے کہ اس جمہوریت کش رجمان کے ہولناک نتائج کو دیکھتے ہوئے پاکستان کے تمام فرقے اور جماعتیں یک زبان ہو کہ اس کی مذمت کریں گی۔تاکہ اس تباہ کن ذہنیت کے جراثیم پروپگنڈا کی زہر آلود فضا میں پرورش پاکر معاشرے کے رگ وپے میں پوری سرعت و شدت سے سرایت کرنے کی بجائے اپنی موت آپ ہی مر جائیں " اے -۵ روز نامہ تعمیر راولپنڈی (۱۳ مارچ ۱۹۵۷ء) نے مرزا بشیر الدین پر حملہ کے زیر عنوان حسب ذیل شذرہ شائع کیا :- احمدی فرقہ کے راہ نما مرزا بشیرالدین محمد پر حملہ کی بر بڑھ کر ہر صحیح الخیال مسلمان کو رنج ہو انگورا گرچہ حملہ آور کے متعلق ابھی تک کوئی تفصیل معلوم نہیں ہوسکی لیکن وہ جس فرقہ اور عقیدہ سے بھی تعلق رکھتا ہو اس کی حرکت بلا شبہ مذموم ہے، اور اگر اس نے یہ کام کسی مذہبی جوش کی بنا پہ کیا ہے تو یقیناً اس نے اپنے مذہب کی تعلیمات کو غلط سمجھا ہے۔اور ان کے خلاف عمل کر کے اس مذہب کے پیروکار ان کو شرمندہ کیا ہے۔۔۔مذہب اور عقائد کے اختلافات اور دوسروں کے نظریات پر ناپسندیدگی کے اظہار کیلئے تشدد کے طریقے اختیار کرنے کو دنیا کے ہر مذہب نے برا ٹھہرایا ہے۔لیکن اسلام نے جس کا پیغام امن و سلامتی اور رواداری کا پیغام ہے۔ایسے طریقوں کی خاص طور پر مذمت کی ہے۔ذاتی خواہشات کی بنیاد پر اور رنبش کے اظہار کیلئے بھی ایسے طریقوں کا استعمال ہر سو سائٹی اور ہر قانون میں ممنوع رہا ہے۔لیکن مذہبی یا سیاسی نظریات کی بنیاد پر ایسے افعال اور بھی زیادہ مردہ سمجھے گئے ہیں کیونکہ اس سے پوری سوسائٹی پر برا اثر پڑتا ہے۔اسی لئے ہم اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے بہ امید کرتے ہیں کہ حملہ آور کا برا قدام کسی مذہبی جذبہ کا نتیجہ نہیں تھا ہمیں یہ بھی امید ہے کہ ہمارے مذہبی رہنما اس قسم کے واقعات کے اعادہ کو روکنے کے لئے عوام کی ذہنی اور اخلاقی اصلاح کی پوری کوشش کریں گے۔ہوسکتا ہے کہ اس قسم کے انفرادی واقعات کا مذہبی تعصبات سے کوئی تعلق نہ ہو۔لیکن ایک اسلامی ملک کے شہری ہونیکی حیثیت سے مختلف مذہبی عقائد رکھنے والوں اور اقلیتوں کے بارہ میں ہم پر خاص احتیاط ضروری ہے کیونکہ ایسے تمام لوگوں کی حفاظت ہم پر مذہب کی طرف سے بھی واجب ہے۔سے ل ما وصل بحوالہ الفرقان فروری مارچ ۱۹۵۴ء مٹ