تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 273 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 273

۲۵۶ ملک کو نا قابل بیان نقصان پہنچ سکتا ہے، ہرگز بڑھنے نہیں دے گا۔- اخبار مغربی پاکستان (۱۳ مارچ ۱۹۵۴ء) نے اپنے ایڈیٹوریل نوٹ زیر عنوان افسوسناک حرکت میں لکھا۔قادیانی عقائد سے شدید اختلاف رکھنے کے باوجود ہمیں یہ خبر پڑھ کر سخت رنج ہوا کہ مرزا بشیر الدین محمود خلیفه قادیان پر کسی نا معلوم نوجوان نے حملہ کر دیا ہے۔ہمارا یہ سوچا سمجھا ہوا موقف ہے، کہ عقائد کا اختلاف سراسر واتی مسئلہ ہے اور اگر کسی وجہ سے عقائد کا اختلاف ذاتیات سے قومی اور اجتماعی مسئلہ بھی بن جائے نسب بھی کسی شخص کو یہ حق نہیں پہنچتا۔کہ وہ اپنے مخالف کو بالحبر اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کرے اور خنجر دستان کو اپنے موقف کی دلیل نبہانے پر اصرار کرے۔اس کے علاوہ یہ حرکت انتہائی غیر اسلامی ہے۔اسلام کا سب سے شاندار اور انتہائی مستحسن اصول یہی ہے کہ دوسرے دین کے کسی بزرگ کے خلاف گستاخی نہ کی جائے اور کوئی ایسا طریقہ اختیار نہ کیا جائے جس سے دوسرے فرقہ والوں کے جذبات کو ٹھیس لگے اور اسلام کی اس واضح اور غیر سیم تعلیم کے پیش نظر بھی مذکورہ نوجوان کی جاہلانہ اور دیوانگی کی رک سخن نہیں سمجھی جائے گی۔اور پاکستان کے فہمیدہ طبقے کا کوئی فرد اس حرکت کی تائید نہیں کرے گا رہے ۴ روز نامہ ملت لاہور نے اپنی اشاعت مورخہ ۱۳ مارچ ۱۹۵۴ء میں قاتلانہ حملہ کے عنوان سے ذیل کا اداریہ لکتھا۔قاتلانہ حملة امام جماعت احمدیہ مرزا بشیر الدین محمود صد صاحب پر کسی نامعلوم نے قاتلانہ حملہ کیا ہے۔لیکن تادم تحریر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ حملہ آور کس فرقے سے تعلق رکھتا ہے۔اور آیایہ جملہ کسی ذاتی رنجش کا نتیجہ ہے یا اسی فرقہ وارانہ ناقشت کا ایک اور افسوسناک مظاہرہ ہے جس کے شعلوں نے پارسال پنجاب کے اس دامان کو خاکستر کمر ڈالا تھا۔بہر حال اتناظاہر ہے کہ یہ حملہ کسی اختلاف رائے ہی کی بنا پر ہوا ہے۔لیکن اختلاف رائے کا ازالہ قاتلانہ حملوں کے ذریعے سے اول تو ممکن نہیں۔اگر ہو بھی تو اُسے کسی صورت میں پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاسکتا کیونکہ مچھر سیاست چل نکلے تو جمہوریت انجام کار خود اپنے ہا تھوں سے اپنا گلا کاٹ لینے پر مجبور ہو جایا کرتی ہے۔ان حالات میں کوئی ہوشمند انسان اس حملہ کی خدمت کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔جو بزدلانہ ہی نہیں۔جواله الفرقان - فروری - مارچ ۱۹۵۴ م صت |