تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 275
۲۵۰ اخبار عوام لائل پور (۱۳ مارچ ۱۹۵۴ء) نے لکھا۔ہم بغیر کسی تمہید کے سب سے پہلے اپنے ان جذبات کا اظہار کر دینا چاہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے سر براہ مرزا بشیر الدین محمود صاحب پر حملہ حد درجہ قابل مذشت ہے۔- جناب حمید نظامی صاحب ایڈیٹر روزنامہ نوائے وقت نے لکھا:۔ابھی تک وثوقی کیساتھ یہ نہیں معلوم ہوسکا کہ حملہ آور کون ہے؟ اور اس کا مقصد کیا تھا ؟ حملہ کا محرک جذبہ ذاتی تھا یا حملہ آور مرزا صاحب ہی کی جماعت سے تعلق رکھتا ہے یا اس کے مذہبی عقائد مرزا صاحب سے مختلف ہیں اور حملہ کی وجہ یہ اختلاف ہے ؟ تادم تحریر کسی سوال کا بھی یقینی جواب نہیں ملا۔بہر حال ہمیں خوشی ہے کہ مولانا و او د احمد غزنوی، مولانا ابوالحسنات محمد احمد اور ماسٹر تاج الدین نے غیر مبہم الفاظ میں اس حملہ کی مذمت کی ہے۔اور یہ کہا ہے کہ اختلاف عقائد کی بنا پر تشدد کا استعمال ایک نامناسب ناجائز خطر ناک اور تعلیمات اسلامی کے منافی فعل ہے۔کوئی نہیں شخص اس معاملہ میں ان حضرات کے خیالات سے اختلاف نہیں کرے گا۔کہ عقائد کے اختلاف کی بنا پر تشدد کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی گئی۔تو ایک ایسا خطر ناک اور ناپاک چکر شروع ہو جائے گا کہ کسی کی زندگی محفوظ نہ رہے گی" سے 1900 کوئیٹہ کے ہفتہ وار اخبار انبار نے اپنی اشاعت مورخه ۱۹ر پاس نہ ( جلد نمبر 1 میں لکھ دینکو ولی دین کے زیر عنوان لکھا :۔قادیانی فرقہ کے پیشوا مرزا بشیر الدین محمود احمد پر قاتلانہ حملہ کی اطلاع ملی ہے ، اب تک اس کا پس منظر معلوم نہ ہو سکا اور نہ اس عقدہ کی گرہ کشائی ہوئی ہے کہ یہ ایک فرد واحد کا انفرادی فعل تھا یا کسی منظم سازش کا نتیجہ۔بہر کیف یہ حادثہ انتہائی اندوہناک ہے۔اور قادیانیت سے اختلاف رکھنے کے باوجود ہم اس قسم کی انتہا پسندی کی مذمت کرتے ہیں۔تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ نظریہ حیات خواہ کیسا ہی ہو۔کبھی نشد و قتل و غارت گری سے ختم نہیں ہوا۔بلکہ حق و باطل طاغوت د ایمان کے تصادم میں ہمیشہ نظریہ اور نظریہ کی آویزش رہی ہے۔اور جو بھی نظریہ حیات انسانی کے مطابق اور انسانیت کے موافق رہا ہے۔وہ دوسرے تمام نظریات پر حاوی ہو گیا ہے۔خود مذہب اسلام نے تشدد و بربریت اور جبر کے خلاف جہاد کی تاکید سه مسجداله الفرقان ربوہ - فروری - پارت ۱۹۵۴ اومت کے نوائے وقت ۱۴۳ مارچ ۱۹۵۷ء مث