تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 216
جمار کالونہ میں سے بہترین کار ہیں، ڈاکٹر عبدالسلام اپنی عمر کے اس دور میں ہیں کہ جس میں وہ زیادہ سے زیادہ سانسی کام کر سکتے ہیں اوراگر وہ متعلقہ شعبوں میں کام کرنے والوں سے قریبی تعلقات پیدا کرنے کی طرف راغب ہو گئے تو یقیناً سال بہ سال ان کی شہرت میں اضافہ ہوتا جائے گا۔اور بالآخروہ اُن چند اشخاص کے زمرے میں شامل ہو جائیں گے کہ جو کہیں بھی ہوں علوم عالیہ کے سکالہ زردنیا کے کونے کونے سے استفادہ کے لئے اُن کے پاس کھنچے چلے آتے ہیں۔چند سال بعد ڈاکٹر عبد السلام لاہور یا جہاں وہ چاہیں واپس جاسکیں گے۔اور اگر ضروری سرمایہ فراہم ہوگیا تو نظریاتی طبیعات کا وہ خود ایک ادارہ قائم کر سکیں گے۔جو یقی اعلی ترین بین الاقوامی شہرت کا حامل ہو گا " سے ار دسمبر 19ء کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی الصلح الوعود حضرت مصلح موعود کا ایک اہم خطبہ نکاح نے مسجد مبارک میں ڈاکٹر بدرالدین صاحب آن بورنیو کی صاحبزادی امتہ العزیز صاحبہ کے نکاح کا اعلان رمایا جو مرزا محمداد رہیں صاحبت مبلغ بورنیو کے ساتھ مبلغ ایک ہزار وہ پیسے مہر یہ قرار پایا۔حضور نے خطبہ نکاح میں فرمایا :۔جولوگ مالی تنگی کی وجہ سے دین کے خادموں کی کم قیمت لگاتے ہیں وہ غلطی کرتے ہیں کیا وہ چیز تو قیمتی ہے جس کے امریکن یا سکھ ہندو خریدار ہوں گر اُس چیز کی کوئی قیمت نہیں جس کا خود اللہ تعالی خریدار ہے۔ڈاکٹر بدرالدین احمد صاحب میں یہ گھورہی ہے اور یہ ان کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں وہ چیز نظر آگئی مجود و سروں کو نظر نہیں آتی۔انہوں نے اپنی پہلی لڑکی بھی ایک خادم دین کو دی تھی یعنی مونی مطیع الرحمان صاحب بنگالی کو۔اگر چہ وہ ڈاکٹر ہیں اور ہزاروں اور پیر ماہوار کھاتے ہیں مگر وہ اپنی لڑکی ایک واقف زندگی کو دے رہے ہیں کیونکہ اس میں انہیں وہ چیز نظر آتی ہے جو انہیں اپنے آپ میں نظر نہیں آتی۔میں نے خوش قسمتی اس لئے کہا ہے کہ کئی لوگ با وجود خادم دین کی قدر و قیمت پہچاننے کے پھر بھی عمل کی توفیق نہیں پاتے " سے ه روزنامه المصلح " کراچی ۱۲ دسمبر له ما وصت۔ه ابن مرزا محمد اسماعیل صاحب منجر بر یاشیل پٹرول پیپ ایم۔اسے مرزا اینڈ سنز همین حال دارو دار الصور نشرتی ربوہ سے روز نامہه الصلح کراچی یکم جنوری ۱۹۵۷ در یکم صلح ۳۳۳ امش در خطبه نویس مولنا نذيرا مدمن على رئيس التبليغ مغربي فريقين