تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 215
۲۰۳ جاری کیا اس وقت میرے پاس ایک پیسہ بھی نہ تھا۔مجھے اخبار نکالنے کا خیال مقدسہ مارٹن کلارک کے باعث پیدا ہوا۔میں نے حضرت اقدس علیہ السّلام کی خدمت میں لکھا۔حضور نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ مجھے تو اخبار کا تجربہ نہیں جماعت غریب ہے۔آپ اپنے تجربہ کی بناء پر جو مناسب سمجھتے ہیں کریں چنانچہ میں نے اللہ پر توکل کر کے اخبار الحکم جاری کر دیا۔اُن دنوں کتابت کی اُجرت پر آنے فی صفحہ ہوتی تھی۔آپ نے یہ بھی بتا یا کہ انہوں نے طالب علمی کے زمانے میں پہلا مضمون جالندھر کے اخبارہ آفتاب ہند میں لکھا تھا۔اس مجلس میں چوہدر سی علی محمد صاحب بی۔اے بی ٹی نائب ایڈیٹر ریویو آن ریلیجز" (انگریزی) مولوی خورشید احمد صاحب شاد منجر مصباح اور مولوی غلام باری صاحب سیف ایڈیٹر خالد نے شرکت کی۔دعا پر یہ پرلطف اور یادگار مجلس ختم ہوئی سیاہ حضرت عرفانی الماسانی کا یہ سفر پاکستان کا پہلا اور آخری سفر ثابت ہوا کیونکہ اس کے بعد آپ اپنی زندگی میں بارہ پاکستان نہیں آسکے۔ڈاکٹر عبدالت دام صاحبک نیا اعزاز اونٹ کا لا ہوریں بیانی کے پروفیسر شعبہ ریاضی پنجاب گورنمنٹ کالج ایونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کو سہ کے آخر میں کیمرج یونیورسٹی کی طرف سے لیکچررشپ کی پیشکش کی گئی۔آپ پہلے پاکستانی ہیں جنہیں یہ نمایاں اعزاز ملا بوصوت اس نئے عہدے کا چارج لینے کے لئے اور دسمبر کو بذریعہ ہوائی جہاز کیمبرج تشریف لے گئے۔پاکستان اور احمدیت کے اس مایہ ناز فرزندگی اعلی تعلیمی صلاحیتوں کا ذکر کرتے نیچرل فلاسفی ایڈنبرگ کے پروفیسر ابن کینٹ ٹیٹ نے انہیں دنوں لکھا:۔جدید نظریاتی طبیعات کے انتہائی ترقیاتی یافتہ شکل اور دلچسپ میدان میں ڈاکٹر عبد السلام کو ایک ریسرچ سکالر کی حیثیت سے واقعی اعلی مقام حاصل ہے، مجھے یہاں کی رنج میں دنیا کے اُن چنیدہ طلبہ کو منتخب کرنے کا موقع ملا ہے جو بلاشبہ اعلی ترین دماغوں کے مالک تھے لیکن سلام نے بڑی آسانی سے ثابت کر دکھایا ہے کہ وہ ان چنیدہ سکالرز میں سے بھی قابل ترین سکالر ہے۔یہ تنہا میری ہی رائے نہیں ہے کیونکہ سینٹ جان کالج کی فیلوشپ انسٹی ٹیوٹ فار ایڈوانسٹڈ سٹڈی پرنسٹن کی رکنیت اور کیمرج کی موجودہ پیشکش یہ سب اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ فی الواقعہ آپ سه روز نامه المصلح " کراچی و دسمبر ۵دمت کالم را