تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 203
۱۹۳ نے ۳ مارچ ۹۵۳ یہ کو آپ کو خوش آمدید کہتے ہوئے آپ کی شاندار قومی دیلی خدمات کو سراہا۔اور حسب ذیل مقالہ افتتاحیہ لکھا:۔آج کوئی ایسا نفس موجود نہیں ہے جس نے چو ہدری محرظفراللہ خان صاحب سے بڑھ کہ اسلام اور مسلمانوں کی خدمت سر انجام دی ہو۔انہوں نے مسلمانوں کے مفاد کے تحفظ میں سینہ سپر ہو کر دنیائے اسلام کو اپنا اور پاکستان کا گرویدہ بنایا ہے۔چھ سال کے مختصر عرصہ میں پاکستان کو بین الاقوامی مجالس میں جو اہم اور باعزت مقام حاصل ہوا ہے۔اس میں ظفر اللہ خان صاحب کی مساعی کا بے حد دخل ہے۔ایک تو ذہانت و فراست اور دیگر ذاتی اوصاف کی وجہ سے دوسرے نو آبادیات میں سامراجی طاقتوں کی آمریت کے خلاف پر زور آواز اُٹھانے کے باعث آج پاکستان کے ظفر اللہ خان صاحب تمام دنیا میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔پاکستان سے باہر جاتے اور واپس آتے وقت جس جس ہوائی اڈے پر بھی اُن کا طیارہ اُترتا ہے۔اس مملکت کی منتازہ ترین شخصیتیں اُن کے استقبال اور برادرانہ خیر مقدم کے لئے وہاں موجود ہوتی ہیں۔خلفر اللہ خان صاحب نے پاکستان اور اسلام کے لئے جو خدمات انجام دی ہیں قوم اُن سے پوری طرح باخبر ہے ہمیں اُن پر فخر ہے۔اور ہم ہی نہیں پورا ملک اُن کی شخصیت پر نازاں ہے۔مجلس خدام الاحمدیہ کراچی نے ۹۴ہ سے ایک ہفت روزہ الصلح" ۱۹۴۹ء روز نامہ الصلح کا اجراء کے نام سے جاری کر رکھا تھا میں کے روز نامہ کا ڈیکلریشن حاصل کرنے کی کوشش کی گئی جو ۲۹ مارچ سالہ کو کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔اور ۳۰ را پر سایہ کو اس اخبار کی با قاعد ۱۹۵ اور روزانہ اشاعت کا آغاز ہو گیا جو عملاً افضل کا ہی دوسرا ایڈیشن تھا اور اس کی اشاعت و ادارت کے قبلہ انتظامات بھی الفضل کا مستعد اور فرض شناس سٹاف ہی انجام دیتا تھا۔اس کادفتر حمدیہ ہال میگزین لین کراچی میں تھا۔یہ روز نامہ ابتداء میں کلیم پریس لارنس روڈ میں بعد ازاں علمی پرنٹنگ پرائیں اور پھر آرمی پریس میں چھپتا رہا اور اس مارچ 19لہ یعنی الفضل کے احیاء تک نہایت باقاعدگی سے شائع ہوتا رہا۔المصلح کی یہ عظیم خدمت ہمیشہ یادگار رہے گی کہ اُس نے نہایت کامیابی سے الفضل کی بندش 2 900 ه بحواله روزنامه اصلح کرا چی مار اگست ۹۵۳ام (۸از ظهور ۳۳ (پیش) ۳۴