تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 199
التزام فرمانے والے بزرگ تھے۔آپ نے عمر کا ایک بڑا حصہ بسلسلہ ملازمت دہلی میں گزارا آپ کی سادگی ، تقویٰ اور خوش خلقی کا یہ اثر تھا کہ بڑے سے بڑا افسر بھی آپ کو نہایت عزبات و احترام کی نظر سے دیکھتا اور آپ کی بات کو وقعت دیتا یہ آخر دم تک جماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے۔بالخصوص حجامت احمد یہ دہلی میں پینتیس سال تک سیکرٹری مال کے فرائض نہایت محنت، جانفشانی اور خوس اسلوبی سے سرانجام دیئے۔دہلی سے کراچی آنے کے بعد بھی کئی سال تک جماعت مقامی کی مجلس عاملہ کے رکن رہے، اگرچہ کم گو تھے لیکن تبلیغ کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے۔بڑے بڑے صاحب اور نشین حضرات تک پہنچنے اور اُن تک پیغام حق پہنچ کر خوش ہوتے دوسروں کی دلداری کا خاص خیال رکھتے تھے۔اور یہ امر بیعت کو کسی صورت گوارا نہ تھا کہ کسی کو آپ کی وجہ سے کوئی دکھ پہنچے یا وجہ شکایت پیدا ہو سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ اور نظام سلسلہ سے آپ کی وابستگی عشق کی حد تک پہنچی ہوئی تھی سلسلہ کی ترقی کے لئے دعاؤں میں مصروف رمنا آپ کا خاص شیوہ تھا۔آپ نے چھ بیٹیاں اور ایک بیٹا بطور یاد گار چھوڑے اے ت ان بلند پای صحابہ کے علاوہ سلسلہ احمدیہ کے بعض اور مخلصین بھی اس سال بعض دوسر مخلصین کی وفا داغ مفارقت دے گئے جن میں سے دو خاص صورت قابل ذکرہیں۔دو پرتابل را سید طفیل محمد شاہ صاحب (ولد سید شاہ نواز صاحب ترندی رئیس سیتی سیداں و مو بات تحصیل ٹانڈہ ضلع ہوشیا پور ) 1905 ه روز نامه اصلح کراچی مورخه ، ار فتح ۱۳۳۳ مش / دبر له مات ه ولادت شله، وفات ۲۵ ماری سر خلافت ثانیہ کے اوائل میں داخل احمدیت ہوئے اور پھر اوپری شمر سرکاری ملازمت اور طہا بہت کے ساتھ ساتھا حمدیت کی پر جوش علمی خدمت میں گزار دی۔آپ ایک محقق اور فاضل بزرگ تھے۔آپ کی مندرجہ ذیل تالیفات کو جماعت میں بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔رہنا کے تبلیغ - اجرائے نبوت - تحقیقات الادیان حصہ اول اسلام اور مہندو دھرم کا مقابلہ۔آپ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ آپ ۹۲۳ مہر کی پہلی مجلس شوری میں جماعت احمدیہ کو گھر وال (لائل پور کے نمائندہ کی حیثیت سے شامل ہوئے آپ کو گھر وال اور سالار والہ کی حمدیہ جماعتوں کے سالہا سال تک پریزیڈنٹ بھی ہے۔اولاد را سی غلام حمدشاہ نا سید مداحلاه سید طیف احمدشاه تا بریم حداد مالیم احمدشاه اسیر مبارک احمد مینا سیده مبارک بیگم صاحبه تحریک جدید کے اولین مجاہدین میں سے تھے۔(مطبوعہ فہرست صفحہ ۲۹۲)