تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 200 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 200

19۔(۳) استید رضوان عبدالله صاحب ابن اشتد عمر ابوبکر آندی خرطوم (حبشہ کے احمدی نوجوان مینتعلم مولوی فاضل کلاس جامعہ احمدیہ س البشري " حيفا دسمبر ۱۹۵۰ ء ص ۲۴۷۳ ه ولادت ۱۹۳۵ء یہ ہونہار، با اخلاق اور نہایت مفتی احمدی نوجوان تھے جو دسمبر ۱۹۵۰ء میں جو ملک حبشہ سے علم دین سیکھنے کیلئے مرکز احمدیت ربوہ میں آئے تاکہ واپس جاکر اپنے تک کی عیسائی اور دیگر اقوام کو اسلام کی طرف دعوت دیں۔مگر افسوس ابھی آپ کو یہاں آئے ساڑھے تین سال ہی ہوئے تھے کہ آپ ۲۶ اگست ۹۵۳ہ کو جامعہ احمدیہ کے طلبہ کے ساتھ دریائے چناب پر نہانے گئے اور عصر کی نمازہ کے لئے وضو کر رہے تھے کہ پاؤں پھیل جانے سے دریا میں ڈوب کر عالم غریب الوطنی میں شہید ہو گئے مرحوم اپنے والدین کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔آپ کو پہلے ما نشتہ عام قبرستن میں دفن کیا گیا۔بعد ازاں حضرت مصلح موعود کی اجازت سے بہشتی مقبرہ میں سپردخاک کئے گئے۔آپ بزم تعلیم البیان جامعہ احمدیہ احمد نگر ربوہ کے بانیوں میں سے تھے۔(روز نامہ الصلح یکم، ۲ ، ، ا ستمبر لله ) آپ کی وفات پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے ایک مضمون رضوان عبد اللہ کی المناک وفات کے عنوان سے سپرد قلم فرمایا جس میں کھا۔رضوان جو کئی ہزار میل کی مسافت لے کر کے علم دین کی تحصیل کی غرض سے ربوہ آیا تھا۔اور جب کہ مجھے معلوم ہوا ہے اپنے والدین کا ایسے بڑا چہ تھا۔ایک بہت ہی شریف اور ہونہار اور دیندار لڑ کا تھا۔۔۔رضوان رحوم سے پہلے لاہور میں مجھے مار عربی زبان میں نہیں کرتا رہا اورپھر ہم نے اسے ابو بھجوانے کا انتظام کردیا۔اُس وقت سے میری طبیعت پر رضوان کی شرافت کا خاص اثر تھا۔کم گو ، شریف مزاج ، بے شہر، مخلص دینی جذبات سے معمور اور ہونہار۔یہ وہ اثر ہے جو ہرہ شخص جو رضوان سے ملا اس کے متعلق قائم کرتا رہا ہے یہ المصلح یکم ستمبر ۹۵ہ ص۳) } و مزید حالات کے لئے ملاحظہ ہو رسالہ خالد ربوده نومبر ۱۹۵۳ م ص ۲۵ - ۲۷)