تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 198
IAA کوئی پرواہ نہیں خیر حضرت صاحب نے بیعت منظور فرمائی اور مجھے لکھاکہ تمہاری بیعت قبول کی جاتی ہے۔اگرتم پر کوئی گالیوں کا پہاڑ کیوں نہ توڑ دے نگاہ اٹھا کر مت دیکھنا " لے دہلی میں بیعت کے بعد آپ پہلی مرتبہ شانہ کے جلسہ سالانہ پر قادیان حاضر ہوئے اور دوبارہ حضور کی زیارت نصیب ہوئی۔حضرت حکیم صاحب اللہ میں دہلی کو ترک کر کے قصبہ اچولی ضلع میرٹھی میں طبابت کرنے لگے۔میں آپ نے اپنے اہل و عیال کو مستقل رہائش کے لئے قادیان بھجوا دیا اور خود جماعتی ضرورت کے پیش نظر 1911 اچولی میں ہی مقیم رہے۔بعد میں خود بھی ہجرت کر سکے ۱۹۳۴ ء میں قادیان تشریف لے آئے یہ امر کے ملکی فسادات کے دوران آپ قادیان سے پاکستان میں چلے آئے تھے اور کراچی میں قیام پذیر ہوئے اور یہیں آپ کا انتقال ہوا۔آپ بلندی پر طبیب تھے۔سیدنا حضرت مصلح موعود سے والہانہ خلاص رکھتے تھے اور اپنا وقت دوسروں کی خدمت اور بھلائی میں صرف کرنے کے عادی تھے۔اپنے ملنے والوں خصوصاً نوجوانوں کی اخلاقی اور تمدنی اصلاح میں ہمیشہ کوشاں رہتے اور انہیں بہت دلکش انداز میں نصائح فرمایا کرتے تھے۔آپ نوجوانوں کو خاص طور پر تلقین فرماتے تھے کہ عمدہ اخلاق کے بغیر صمد صحت نہیں مل سکتی ہے حضرت شیخ غلام حسین صاحب (۱۳) (ولادت ۱۸۹۳ء اندازا (وقات) ۱۵ دسمبر ۱۹۵۳ / ۵ ار ستم ۱۳۳۲ هش بمقام کراچی) حضرت شیخ غلام حسنین صاحب کے دادا حضرت شیخ حمد ابراہیم صاحب رضی اللہ عندارد والد حضرت ماسٹر قمر الدین صاحب لدھیانوی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدیم صحابہ میں سے تھے۔اور دونوں کو حضور علیہ سلام کے ۳۱۳ - اصحاب کبار میں شمولیت کا شرف حاصل تھا۔سکے حضرت شیخ صاحب مرحوم نہایت متقی پرہیز گار اور حقوق اللہ و حقوق العباد کی بجا آوری کا خاص ه سیر روایات صحابه نمبر ۱۲ صفحه ۱۳ تا ۱۸ - روزنامه المصلح اور دسمبر ۱۹۵۳ء ۱۳ فتح ۱۳۳۳ هش مش ه روزنامه الصلع، کراچی - افتح ۳۲ امیش دارد برای ما اخوند فیاض احمد خان جن کے ایک نوٹ کی تلخی) سے ضمیمہ انجام انتم مسلم