تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 194 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 194

JAM حضرت مهدی موعود کو جناب الہی سے یہ وعدہ دیا گیا ہے:۔یکن تیرے خالص اور دلی محبتوں کا گر وہ بھی بڑھاؤں گا اور ان کے نفوس و اموال میں برکت دوں گایا ہے اس وعدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھی کثرت نسل سے نوازا چنا نچہ وفات کے وقت آپ کے بیٹوں (قاضی بشیر احمد صاحب، قاضی عبد السلام صاحب، قاضی مبارک احمد صاحب اقاضی منصور احمد صاحب) اور ایک نواسہ اور پوتوں، پوتیوں اور پڑ پوتیوں کو شامل کر کے آپ کے کنبے کی تعداد ۶۲ افراد تک پہنچ چکی تھی یہ ۱۲- حکیم محمد عبد الصمد صاحب دہلوی (ولادت : قریباً ۶۱۸۷۹، بیعت و زیارت ۶۱۹۰۵، وفات دار دسمبر ۱۹۵۳ء بمقام کراچی) حضرت حکیم محمد عبد الصمد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ مجھے تو غیر احمدی علماء نے احمدی بنایا ہے چنا نچہ آپ اپنے ایک تحریری بیان میں فرماتے ہیں:۔" یکی ۱۸۹۱ ء میں ایک مولوی صاحب بنے سے (تفسیر جلالین پڑھا کرتا تھا اس میں یعینی اتی متوفِّيكَ وَرَافِعُكَ إلى والی آیت آگئی جس کی تفسیر میں لکھا تھا " رَافِعُكَ إِلَى مِنَ الدُّنْيَا مِنْ غَيْرِ مَوْت (یعنی یکی دنیا سے تیرا رفع بغیر موت کے کروں گا ) میں حیران ہوا کہ میں غيْرِ مَوت کہاں سے آگیا۔یہ متن کی تفسیر ہو رہی ہے یا متن کا مقابلہ ہو رہا ہے۔رات غور کرتے کرتے روز بھی گئے۔اتفاقاً والد صاحب کی آنکھ کھلی۔انہوں نے اتنی دیر جاگنے کا سبب دریافت کیا۔میں نے اصل حقیقت آشنائی۔فرمایا میاں اُستاد کس لئے ہوتا ہے ؟ تم صبح جا کر مولوی صاب سے یہ معاملہ حل کروالینا چنانچہ میں صبح مولوی صاحب کے پاس گیا اور سارہ اقصہ کورش نایا۔مولوی صاحب کہنے لگے کہ میاں متقدمین سے لے کر متاخرین تک سب کا یہی مذہب چلا آتا ہے۔اس میں جھگڑا مت کرو۔مگر میں نے کہا کہ جب تک میری سمجھ میں نہ آئے ہیں آگے ہرگز نہیں چلوں گا۔اس پر ه اشتهار ۲۰ فروری ۲۱۸۸۶ س المصلح" کراچی ۱۵ر دسمبر ۱۹۵۳ء سے آپ کے صاحبزادہ حکیم عبد الواحد صاحب صدیقی حال کراچی کی روایت کے مطابق ان کا نام مولوی محمد بشیر صاحب تھا۔