تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 195
۱۸۵ وہ بہت ناراض ہوئے۔میرے والد صاحب کو بھی بلوایا مگر انہوں نے کرنا کہ آپ استاد ہیں اور یہ شاگرد آپ جائیں اور آپ کا کام میں اس میں دخل نہیں دیتا۔اور یہ کہ کر وہ پہلے گئے اور مولوی صاحب نے پھر مجھے کہنا شروع کیا کہ پڑھو۔میں نے کہا جب تک آپ سمجھائیں، نہ میں کیسے پڑنے سسکتا ہوں۔اس پر مولوی صاحب کو غصہ آیا اور انہوں نے مجھے ایک تھپڑ مارکر کہا کہ ایک تجھے جنون ہوا ہے اور ایک مرند ا کو۔میں حیران ہوا کہ یہ مرزا کون ہے۔ساتھ ہی میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ یکس کسی اصل پر قائم ہوں۔۔۔۔شام کو دوسرے استاد کے پاس گیا اس نے بھی کہا کہ ایک تجھے جنون ہوا ہے اور ایک مرزا کو۔اس سے میرا دل اور مضبوط ہو گیا کہ میری بات کمزور نہیں ہے۔پھر تیسرے اُستاد مولوی عبد الوہاب صاحب کے پاس گیا اُنہوں نے کہا کہ یہ تو بڑا قصہ ہے اس کا تو مدعی موجود ہے جو کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ فوت ہو گئے ہیں اور جس عیسی کی آمد کا لوگ انتظار کر رہے وہ میں ہوں۔میں نے کہا کہ پہلی بات تو میری سمجھ میں آگئی ہے مگر دوسری کا ابھی پتہ نہیں لگا۔انہوں نے کہا کہ مکی پنجاب میں گیا تھا بائیس دن وہاں رہا۔اُن کا ایک مرید مولانا نور الدین ہے حکمت ہیں تو اُس کا کوئی ثانی نہیں۔اور یکں نے اُس کے دینی درسوں کو بھی سنا ہے بڑے بڑے مولوی اس کے سامنے رک نہیں مار سکتے۔انہوں نے اپنی بیعت کا ذکر نہ کیا کیونکہ وہ مخالفت سے ڈرتے تھے مجھے کہنے لگے کہ اُونچا مت بولو مولوی عبد الغفور صاحب سن لیں گے۔میں نے کہا مجھے اس بات کی کوئی پروا نہیں میں صداقت کے اظہا ر سے کیسے رک سکتا ہوں۔غیر اسی طرح پڑھتے پڑھتے ۱۹۰۵ء کا زمانہ آگیا۔حضرت صاحب دہلی تشریف لے گئے اور الف خاں صاحب سیاہی والے کے وسیع مکان میں فروکش ہوئے۔ہزار ہا لوگ آپ کے رکھنے کے لئے گئے تے ہیں بھی گیا۔میں مخالف مولویوں کے ساتھ گیا۔اُن میں طلباء زیادہ تھے اور ہمارے سرغنہ مولوی مشتاق علی تھے انہوں نے لے حضرت حکیم صاحب نے ان کا نام مولوی محمد اسحق صاحب منطقی بتایا تھا۔روایت حکیم عبدالواحد صاحب) + کے واقع چنتلی قبر متصل مسجد سید رفاعی صاحب د اخبار الحکیم قادیان ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۵ ء حب کالم علا) + سے تفصیلی روداد کے لئے ملاحظہ ہو ا خبار "بدر ۱۳ نومبر و ۶- نومبر ۶۶۱۹۰۵