تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 193
IAP کوٹیوں اور مسجدیں بذریعہ تالیاں پانی پہنچانے کا خیال ظاہرفرمایا تھا۔پس اگر حضور پسند فرمائیں تومیں تخمینہ ناکر پیش کر دوں گا اور بعد منظوری ایک مہینے کے اندر یہ کام کر دینے کی امید رکھتا ہوں۔انشاء اللہ تعالیٰ " حضرت مصلح موعود نے اس پر اپنے قلم مبارک سے تحریر فرمایا اتخمینہ پیش کر دیں مگر انجمن کی عمارات اس قدر دور ہیں کہ وہاں تک پانی کی طرح جائے گا یا سماس جزوی مقدمت کے علاوہ ربوہ میں آپ کا عظیم کارنام مسجد مبارک کی تعمیر ہے جو اگست ۱۹۵۱ء میں آپ کے ہاتھوں پایہ تکمیل تک پہنچی۔الغرض قادیان اور ربوہ کے دونوں مراکز کی تعمیرات میں آپ کو شاندار خدمات کی توفیقی ملی۔حضرت قاضی عبد الرحیم صاحب اولین مومیوں میں سے تھے آپ کا وصیت نمبر ۳۷ تھا۔آپ نے علاقہ ملکانہ کی تبلیغی مہم میں سرگرم حصہ لیا اور تین ماہ وقف کر کے خدمت اسلام کرتے رہے۔تحریک تجدید دنتر اول کے مجاہد تھے۔۱۹۴۷ء کی ہجرت کے بعد آپ کو قادیان کی جدائی کا بہت صدمہ تھا اور قادیان کی واپسی کے انتظار میں آپ کی عمر کی آخری گھڑیاں آن پہنچیں۔جناب قاضی عبد السلام صاحب بھٹی لکھتے ہیں کہ قادیان کی واپسی کیلئے بیحد بیقرار رہتے تھے مگر جب حضرت ام المؤمنین فوت ہو گئیں تو جنازے کے ہمراہ جاتے ہوئے روتے تھے اور کہتے تھے کہ جب اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے سامنے اتنی بڑی ہستی کی یہ خواہش پوری نہیں ہوئی تو ہم کون ہیں ؟ بعد ازاں جب حضرت ام المؤمنین کے مزار کی تعمیر کا کام آپ کو سونپا گیا تو درد بھرے دل سے کہا کہ آج سے ۴۴ برس قبل قادیان میں خدا کے مسیح علیہ السلام کے وصال پر ان کی آخری آرام گاہ کی تیاری کا کام اللہ تعالی نے مجھ سے ہی لیا تھا اور آج پھر ویسی ہی خدمت کا شرف مجھے بخشا گیا۔موت کو بہت یاد رکھتے تھے اور شیخ سعدی کا یہ شعر ہے حضرت مسیح موعود نے رسالہ " الوصیت میں بھی درج فرمایا ہے بہت پڑھا کرتے عروسی بود نوبت ما تمت : اگر بر نکوئی بود خانمت آپ کا انجام نہایت مبارک ہوا ۲۹ اکتوبر ۱۹۵۳ء کو جمعرات کی شام آپ کی وفات ہوئی اگلے روز حضرت مصلح موعودؓ نے نماز جمعہ کے بعد آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور بہشتی مقبرہ کے قطعہ صحابہ میں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔سے له " اصحاب احمد جلد ششم ص و ل " المصلح کرا چی ۲۶ نومبر وه ار دسمبر ۱۹۵۳ مت »