تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 182 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 182

۱۷۲ شیخ محمد صدیق صاحب امیر جماعت احمدیہ کمی پور نے آپ کی وفات پر لکھا ہے۔و و مر حوم صحابی تھے شمع تبلیغ کے پروانے تھے۔آپ نہایت ہی متقی، پرہیز گار، تجد خواں ، پر جوش اور مخلص احمدی تھے۔آپ کی وفات سے جماعت ایک قیمتی وجود کی رائے اور دعاؤں سے محروم ہو گئی ہے۔آپ ۱۹۳۲ء میں ریٹائر ہوئے اور ۱۹۲۷ء تک لینے پندرہ سال امیر اور سیکرٹری مالی جماعت احمدیہ کیمپلپور کے اہم عہدوں کو نہایت تندہی اور خوش اسلوبی سے سنبھالے رکھا۔آپ کی ذاتی لائبریری میں سلسلہ عالیہ حدیہ کی تقریباً جملہ کتب اور اخبار الفضل کے فائل موجود ہیں جن سے جماعت اور پبلک مستفیض ہوتی رہتی ہے " سے شیخ نیاز محمد صاحب ریٹائر ڈ انسپکٹر پولیس رولات الامام امین آباد ضلع گوجرانوالہ بیعت و زیارت : ۶۱۹۰۷، وفات ۲ جولائی ۱۹۵۳ء بمقام ربوده) شیخ صاحب مرحوم میاں محمد بخش صاحب انسپکٹر پولیس بٹالہ کے فرزند تھے جنہوں نے ۱۸ اپریل ۱۸۹۷ء کو قتیل لیکھرام کا سراغ لگانے کے لئے مسٹر بیمار چند سپرنٹنڈنٹ پولیس گورداس پور وغیرہ کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الدار کا محاصرہ کیا اور خانہ تلاشی لی یہ شیخ نیاز محمد صاحب کی خود نوشت روایات میں ہے کہ :۔مجھے یاد پڑتا ہے اور میری والدہ صاحبہ نے بھی اس کی تصدیق کی ہے کہ والد صاحب نے ذکر کیا تھا کہ لیکھرام کے قتل پر جب حضرت اقدس کے مکان کی تلاشی لی گئی تو والد صاحب کی کسی زیادتی پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ آپ تو اس طرح مخالفت کرتے ہیں مگر آپ کی اولاد میرے حلقہ بگوشوں میں داخل ہو جائے گی۔والد صاحب نے فرمایا کہ میں یہ سن کر چپ ہو گیا کیونکہ اُن کو یہ شروع سے ہی یقین تھا کہ حضرت صاحب نہایت بزرگ اور عا بد انسان ہیں نے که حضرت قاضی محمد یوسف صاحب امیر جماعت احمدیہ سرحد نے " تاریخ احمدیہ (سرعد مطبوعہ ۱۹۵۹ء کے صفحہ ۲۵۸ ۲۵۹ پر آپ کا ذکر فرمایا ہے ، بے روزنامہ الصلح کراچی ، ر جولائی ۶۱۹۵۳ صت به سه روزنامه الفضل ربوه ۲ ستمبر ۶۱۹۵۳ ه که روزنامه المصلح" کراچی ۲۸ جولائی ۶۱۹۵۳ باشہ اس واقعہ کی تفصیل تاریخ احمدیت جلد دوم طبع دوم صفحہ ۲۲۸ - ۴۲۰ میں گزرچکی ہے : شہ رجسٹر روایات صحابہ نمبر ۱۳ ص۱۳۲ :