تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 183
۱۷۳ شیخ نیاز محمد صاحب کے بیان کے مطابق ۱۹۰۱ء کے آخر میں اُن کے والد صاحب کو ہاتھ میں کا بینکل کا پھوڑا نکلا جو ملک ثابت ہوا۔بیماری کے ایام میں انہوں نے یہ ارادہ ظاہر کیا کہ وہ تندرست ہونے کے بعد حضرت اقدس کی بیعت میں داخل ہو جائیں گے مگر زندگی نے وفانہ کی اور وہ ۳ مارچ ۱۹۰۲ء کو فوت ہو گئے۔ان کی وفات کے بعد شیخ نیاز محمد صاحب بٹالہ سے اپنی زمین واقع تحصیل حافظ آباد میں چلے آئے جہاں اُس وقت بندوبست ہو رہا تھا چند سال بعد غد اکے ٹیم کے مبارک ہونٹوں سے نکلی ہوئی بات پوری ہو گئی احمد شیخ نیاز محمد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دست مبارک پر بیعت کرلی۔جناب شیخ صاحب اپنے قبول احمدیت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔حسن اتفاق سے حضرت مولوی حکیم محمد دین صاحب ۱۹۰۷ ء میں ہمار سے ایک مکان میں کرایہ دارہ کی حیثیت سے رہنے لگے اور اس بزرگ کی پاک محبت کے اثر سے اس عاجز کو توفیق علی کہ یہ عاجز اُن کے ہمراہ قادیان آیا۔اور چونکہ اُن ایام مجھے دینی واقعیت اچھی طرح سے نہ تھی اس لئے حضرت خلیفہ اول من سے جو مجھ سے شفقت سے پیش آتے تھے دو تین روز کے بعد ذکر کیا کہ حضرت صاحب کو سیح اور مہدی مان لینا کوئی آسان کام نہیں۔پہلے میں اہلسنت و الجماعت کی کتب پڑھوں گا اور پھر حضرت اقدس کی کتب کا مطالعہ کر کے کوئی فیصلہ کروں گا۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ زندگی کا کیا اعتبار ہے یکن آپ کو ایک آسان گر بتاتا ہوں اور وہ یہ کہ اللہ تعالی کے حضور میں دعا کریں اگر حضور پہنچے ہوئے تو آپ پر حقیقت کھل جائے گی۔چنانچہ میں نے نمازوں میں دعائیں کرنی شروع کر دیں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے دوسرے یا تیسرے روز مجھے پر ایک مبشر اور صاف خواب کے ذریعہ سے حقیقت گھل گئی اور معا مجھے اپنے والد صاحب کی آخری نصیحت بھی یاد آگئی تو میں نے حضرت خلیفہ مسیح اول کی خدمت میں اپنی رؤیا اور والد صاحب کی آخری نصیحت کا ذکر کیا اور عرض کی کہ میں بیعت کرنے کے لئے آمادہ ہوں۔اس وقت قریباً ۹۔ابجے صبح کا وقت تھا۔حضرت خلیفہ مسیح اول نے بہت خوشی کا اظہار فرمایا اور فرمایا اب تو آپ ہمارے بھائی ہو گئے ہیں اور پھر اسی وقت مجھے مع حکیم محمد دین صاب حضرت اقدس کے دولت خانہ پر لے گئے اور اندر اطلاع کروائی۔اس پر حضور نے کمال شفقت سے بیت الدعا کے ساتھ والے دالان میں بلوا کر اس عاجز کی بیعت لی۔یکی نے بیعت کرنے سے پہلے حضور کی خدمت میں آبدیدہ ہو کر عرض کی کہ للہ میرے والد صاحب کو معاف فرما دیں حضور نے فرمایا اچھا