تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 178 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 178

IYA اولاد : (1) میاں عبدالسمیعے صاحب نون ایڈووکیٹ سرگودہا (۲) محترمہ زینب بیگم صاحبہ (۳) محترمه سردار بیگم صاحبہ۔- ماسٹر عبدالعزیز صاحب نوشہرہ کے زرئیاں ضلع سیالکوٹ (ولادت ۱۸۶۳ قریباً بیت ۶۱۹۰۶ زیارت ۱۹۰۷ ء وفات ۲۰ جون ۶۱۹۵۳ ) له آپ اپنے خود نوشت حالات میں لکھتے ہیں کہ :۔" بعد امتحان میٹریکولیشن میں یکم جولائی ۱۸۸۷ء کو رسالہ کا بنگال کیوری متعینہ چھاونی فیروز پور میں بعہدہ انگلش سکول ماسٹر ملازم ہو گیا۔میرے اسسٹنٹ منشی خیر الدین صاحب جو ریاست مالیر کوٹلہ کے ایک مغرة زجاگیر دار خاندان سے تھے مقرر ہوئے۔آپ کو فارسی زبان کا اچھا ملکہ تھا اور آپ پہلے احمدی تھے۔آپ کو حضرت صاحب کی کتابوں کا بڑا شوق تھا چنا نچہ جو بھی کتاب وہ منگواتے مجھے ضرور مطالعہ کے لئے دے دیتے ہیں اس کو بڑے غور اور ٹھنڈے دل سے پڑھتا اور جو بات میری عقل اور فہم سے بالاتر ہوتی ہیں اسے ہمیشہ بحوالہ خدا کرتا رہا اور کبھی دل میں نہ کسی قسم کا شک پیدا ہوا اور نہ ہی اعتراض ، نکتہ چینی یا عیب جوئی کا خیال آیا۔قصہ مختصر یہ کہ ۲۶ اکتوبر ۱۸۹۱ء کو ہمارا رسالہ چھاونی فیروز پور سے تبدیل ہو کر چھاؤنی لورالائی ملک بلوچستان کو چلا گیا۔چونکہ رسالہ سٹرک سوار پیدل جارہا تھا ہم لوگ ماہ دسمبر میں براسته منتشگیری ، ملتان ، ڈیرہ غازی خان و غیره میدانی اور پہاڑی علاقہ طے کرتے ہوئے لورالائی پہنچے۔یہاں رسالہ دو سال رہا۔یہیں مجھے صوفیائے کرام کی کتابوں اور مثنوی شریف پڑھنے کا شوق پیدا ہوا۔حضرت صاحب کی کتاب ازالہ اوہام بھی چھپ کر پہنچ گئی۔ہم نے کتاب مذکور کو بغور پڑھا اور پھر ایک شخص بنام میر احمد شاہ دفعدار کو دی۔اُس نے خدا جانے اسے پڑھا یا نہ پڑھا مگر اس نے حضرت صاحب کے الہام انا افر لناه قَرِيبًا من القادیان کے متعلق سخت نکتہ چینی کی اور کچھ ناروا الفاظ بھی اپنی زبان سے کہے۔چھاؤنی اور الائی سے تبدیل ہو کر اسی طرح پیدل سوار چلتے ہوئے فروری ۱۸۹۴ء کو نه المصلح ۴ اکتوبر ۱۹۵۳ء صد کالم عاد