تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 179 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 179

149 علاقہ منت نگری سے لگاتار بارشوں میں بھیگتے ہوئے چھاؤنی انبالہ پہنچے۔۔۔۔چندوں میں تو یکیں شروع اپریل 1904 ء میں شامل ہو گیا تھا مگر ابھی بیعت نہیں کی تھی۔ایک دن یکی قرآن شریف پڑھ رہا تھا جب میں نے یہ آیت " كُنتَ انْتَ الرَّقِيبٌ عَلَيْهِمُ پڑھی تو مجھے سیاق و سباق سے یقین آگیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام واقعی فوت ہو چکے ہیں اب ان کا دوبارہ آنا ناممکن الوقوع ہے۔غرضیکہ قرآن شریف کی رہنمائی اور احمدی احباب کے فیض صحبت سے متاثر ہو کر میں نے دستی بیعت کرنے سے پہلے بذریعہ خط ۱۹۰۶ ء میں حضرت صاحب سے مع بیوی اور تین بچوں ( ۲ لڑکے اور ایک لڑکی بیعت کا شرف حاصل کیا۔پھر اخیر ماہ ستمبر ۱۹۰۷ء میں اپنے عزیز ملک جلال الدین صاحب سکنہ دھرم کوٹ بگہ کو ہمراہ لے کر قادیان گئے اور نماز ظہر کے بعد مسجد مبارک میں خاص حضرت صاحب کے دست مبارک پر ہم دونوں نے بیعت کی اور اسی روز شام کو موضع پہل پچک میں آکر جمعدار حسین بخش صاحب پنشنر کے ہاں مہمان ہوئے پھر علی الصباح ہی لیکن امرتسر چلا آیا لے آپ نہایت مخلص متقی ، پابند صوم و صلواۃ اور صاحب رؤیا و کشف بزرگ تھے۔حضرت سیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔اندرین وقت مصیبت چاره ما بیکساں جزہ دعائے بامداد و گریه اسحار نیست سے اس مصیبت کے وقت ہم غریبوں کا علاج سوائے صبح کی دھا اور سحری کے روزے کے اور کچھ نہیں۔ماسٹر عبد العزیز صاحب نوشہر وی اس شعر کا ایک جیتا جاگتا عملی نمونہ تھے۔مہمان نوازی ، بیمار پرسی اور غریب پروری آپ کی طبیعت کا خاصہ تھا۔نوشہرہ میں گرلز مڈل سکول آپ نے منظور کرایا اور اپنا مکان سکول کے سٹاف کی خاطر دے دیا۔ہر کام سلیقہ سے انجام دیتے۔طبیعت میں نہایت سادگی تھی۔۱۹۳۴ء میں آپ کی لڑکی اختر بیگم ۲۱ سال کی عمر میں جے وی پاس کر کے گھر آئی۔اس کی شادی کی تیاریاں ہو رہی تھیں کہ وہ اچانک بیمار ہو کہ اس جہانِ فانی سے اُٹھ گئی جس کا آپ کو بہت صدمہ ہوا یہاں تک کہ اس فانی دنیا کی کچھ حقیقت اُن کی ے رجسٹر روایات صحابه مه ۲۱ تا ص ۲۱ : بركات الدعاء ص ۳۲