تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 177
192 حضرت حافظ عبد العزیز صاحب نے اس وصیت کو یاد رکھا ہوا تھا جونہی انہیں کسی اشتہار کے ذریعہ سے حضرت اقدس مہدی علیہ السلام کی آمد کی اطلاع ملی۔انہوں نے قادیان کا عزم کیا اور حضرت اقدس کی زیارت سے مشرف ہوتے ہی بیعت کر لی۔آپ کے بعد حضرت مولانا محمد اسمعیل صاحب فاضل حلالپوری پر حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی صداقت آشکارا ہو گئی اور وہ بھی امام زمان کی بیعت سے مشرف ہوئے لیے حضرت مولوی صاحب ایک مشہور عالم خاندان کے چشم و چراغ تھے ان کی بیعت سے گاؤں میں سخت رد عمل پیدا ہوا۔انہیں تکلیفیں بھی دی گئیں۔خود حافظ صاحب کے خلاف بھی کئی قسم کے منصوبے بنائے گئے مگر حضرت حافظ صاحب خود بڑے زمیندار اور رعب والے انسان تھے کسی کو جرات نہ ہوئی کہ بر ملا ان کے روبرو تعصب کا اظہار کر سکے۔وہ خود ایک ننگی تلوار کی طرح تھے احمدیت کے ٹور کو چھپانا معصیت سمجھتے تھے اور تبلیغ حق کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔حضور اقدس علیہ السلام کی جو کتاب آتی گھوڑے پر سوار ہو کر سُنانے نکل جاتے۔ان کا برتاؤ مغرباء کے ساتھ مشفقانہ تھا۔ان کی عربات نفس کا بہت خیال رکھتے تھے اور وہ بھی ان پر جان نچھاور کرتے تھے۔حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں قادیان میں بہت قیام فرماتے تھے اور اکثر حضور سے خط و کتابت کرتے رہتے تھے۔اسی طرح حضرت مصلح موعودؓ کے ساتھ بھی عاشقانہ محبت و عقیدت رکھتے تھے۔دعاؤں کے لئے خود بھی حضوریہ کو خطوط لکھتے اور دوسرے غیر از جماعت دوستوں کو ان کی مشکلات کا حل حضرت مصلح موعود کی دعائے مستجاب میں بتاتے تھے اور ایسے دل نشیں اور پروٹون طریق پر حضرت اقدین کا قبولیت دعا کا نشان بیان فرماتے تھے کہ اکثر لوگ حضور انور کو دُعا کے لئے خطوط لکھتے اور پھر ان سے نتائج معلوم کرتے جو اکثر و بیشتر بلکہ ہمیشہ ہی ایزا دی ایمان و ایقان کا باعث بنتے " سے ه تحریری بیعت ۱۷ار فروری ۱۱۹۰۸ ، دستی ۱۳ راپریل ۶۱۹۰۸ (مرتب) به ه غیر مطبوعہ خط میاں عبد السمیع صاحب نون ایڈووکیٹ سرگودھا بنام مؤلف تاریخ احمدیت +