تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 145 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 145

۱۳۵ کی چون دھوڑی پیش کی۔ازاں بعد قادیان کی گوردوارہ شہید گنج سبھا کی طرف سے قرآن شریف کے دو نسخے چوہدری اسد اللہ خان صاحب کی خدمت میں پیش کئے گئے اور چوہدری اسد اللہ خان صاحب نے دو بیٹریں شری گورو گرنتھ صاحب کی گیانی را بھ سنگھ فخر جنرل سیکرٹری گوردوارہ سنگھ سبھا قادیان کو پیش کیں۔اس موقعہ پر سردار ہر چرن سنگھ باجوہ نے مختصر الفاظ میں احمدیوں کی رواداری اور محبت و پریم کا ذکر کیا اور میری ننکانہ صاحب کے متعلق عقیدت اور محبت کے جذبات کا اظہار کیا۔گیانی لابد سنگھ فخر نے اس موقعہ پر اپنی تقریر میں کہا کہ شروع شروع الحمدية میں ہمیں احمدیہ جماعت کے اخلاق اور عادتوں کا علم نہ تھا بلکہ ہمیں اس جماعت کے متعلق اندھیرے میں رکھا گیا تھا اور غلط فہمی ڈال کر ہمارے درمیان دشمنی ڈالی گئی تھی لیکن اب ہم نے احمدی دوستوں کو قریب سے دیکھ لیا ہے اور ان کی عادات اور اچھے اخلاق سے بخوبی واقف ہو گئے ہیں۔جو محبت اور پریم اس جماعت نے قادیان اور دوسرے علاقوں میں سکھ بھائیوں کے ساتھ کی ہے وہ قابل قدر ہے اور ہم اس کو کبھی نہیں بھلا سکتے۔اس سے پہلے بھی احمدیوں کی طرف سے پچھلے سال دو بیٹریں شری گورو گرنتھ صاحب کی پیش کی جاچکی ہیں اِس سال پھر انہوں نے یہ عمدہ نمونہ پیش کیا ہے۔مرزا واحمد حسین نے یہ بھی بتایا ہے کہ انہوں نے بڑی کوشش اور شکل سے اور بھی بہت سی بیڑیں جمع کی ہیں جن کے بھیجوانے کا وہ بخوشی انتظام کریں گے اگر جماعت ! کے خلیفہ صاحب سے درخواست کریں۔ہم احمدیہ جماعت کے بہت ہی شکر گزار ہیں کہ اس نے ہمارے پوتر استھان کی یاد کو تازہ کرنے کے لئے سامان کئے ہیں اور اپنی محبت اور پر یم اور رواداری کا ثبوت دیا ہے اور اپنے اعلیٰ اخلاق کا نمونہ پیش کیا ہے۔اس موقعہ پر جماعت احمدیہ کی طرف سے تکبیر کے نعرے اور سکھوں کی طرف سے ست سری اکال کے نعرے بلند کئے گئے۔جلسہ میں مرزا و احد حسین گیانی نے سیکھوں اور مسلمانوں کے تعلقات پر بہت دلچسپ تقریر کی جو پنجابی زبان میں تھی۔اس تقریر میں جابجا گورو گرنتھ صاحب کے شہر پڑھ کر انہوں نے حاضرین کو خوش کیا ہے ه روزنامه اجیت جالندھر مورخه ۳۱ دسمبر ۱۹۵۳ بحواله هفت روز ها بدر، قادیان ، جنوری ۱۹۵۴ ص و