تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 144 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 144

۱۳۴ بہت ہی درد اور رقت سے بریز تقریر کی جس میں اپنے وطن اور اہالیانِ وطن سے بعد ائی پر غم و اندوہ اور رکھ اور درد کا اظہار کیا اور دوبارہ تعلقات اور مراسم کے قائم ہونے کے متعلق تمنا ظاہر کی۔اس تعلق میں سردار ہربنس سنگھ صاحب ساہی آف ڈسکہ حال مقیم دوسوسہ ضلع ہوشیار پور کا ذکر کہ دینا ضروری ہے جو دور سے محض جلسہ سننے اور جناب چوہدری اسد اللہ خان صاحب جو ان کے ہم قوم اور ہموطن ہیں سے ملاقات کرنے کے لئے قادیان آئے۔انہوں نے چوہدری صاحب اور ان کے بعض لواحقین کے طعام کے اخراجات امسال بھی اور گذشتہ سال بھی خود ادا کر کے اپنی محبت اور یگانگت کا ثبوت دیا۔پاکستانی قافلہ کے احباب نے مورخہ ۲۹ دسمبر کو قادیان کے بیرونی محلہ جات کی مجملہ مساجد قافلہ کی واپسی کی در میں خاص پر اور کی زیارت کی اور مسجد نور یں جو خاص طور پر تاریخی اور مذہبی تقدس کی حامل ہے نوافل اور ا گئے۔مورخہ سر دسمبر کو دنیا بجے قبل دو پر پاکستانی قافلہ واپس روانہ ہوگیا۔بوقت روانگی نعرہ ہائے تکبیر اور احمدیت اور اسلام زندہ باد کے نعرے بلند کئے گئے۔بھارتی پولیس میں جلسہ کا ذکر بھارتی پریس نے اس ملک کی خبریں اور وشائع کئے اور نوٹ دئے اور احمدیوں کی رواداری اور بلند اخلاقی کی تعریف کی۔اس سلسلہ میں بطور نمونہ صرف دو نوٹ درج کئے جاتے ہیں :۔ا۔سکھوں کے مشہور اخبار روز نامہ اجیت (جالندھرم نے اپنی ۳۱ دسمبر ۱۹۵۳ء کی اشاعت میں لکھا:۔در قادیان ۲۹ دسمبر احمدیہ جماعت قادیان کا ۶۲ واں سالانہ جلسہ قاریان میں ہو رہا ہے۔اس جلسہ کے دوسرے دن اس میں شمولیت کے لئے علاوہ ہندوستانی احمدیوں کے جو ہندوستان کے مختلف علاقوں اور صوبوں سے اپنے مذہبی مرکز میں جمع ہوئے تقریباً دو صد پاکستانی احمدی بھی چوہدری اسد اللہ خان صاحب بیرسٹرایٹ لاء برا در چوہدری محمد ظفر اللہ خان کی قیادت میں جلسہ میں شریک ہوئے۔آج دوسرے دن کے اجلاس میں مرزا واجد حسین (صاحب) مبلغ جماعت احمدیہ نے اعلان کیا کہ وہ اپنے ساتھ شری گورو گرنتھ صاحب کی بیڑیں ، ننکانہ صاحب کا پوتر قبل اور ننکانہ صاحب کی چون دھوڑ لائے ہیں تا کہ اپنے سکھ بھائیوں کو بھینٹ کریں۔چنانچہ انہوں نے اپنی تقریر کے بعد سب سے پہلے باوا ہر کشن سنگھ پر نسپل سیکھ نیشنل کالج کی خدمت میں جگن کا کنستر جس پر سردار ہزارہ سنگھے صاحب گرنتھی ننکانہ صاحب کی چٹھی کا لیبل چسپاں تھا پیش کیا اس کے بعد کا نہ صحاب