تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 63 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 63

۶۳ سامنے کی چارپائی پر سے ایک بستر باہر کھینچ لیا۔تمام مستورات اور بنیچے اوپر کی منزل پر کھڑے ان کی تمام کارروائی دیکھ رہے تھے۔میری ہیومی نے اوپر سے انہیں کہا کہ کر لو لوٹ مار! اگر تمہارا اسلام یہی ہے اور لوٹ مار کی اجازت دیتا ہے تو ٹھہر د میں نیچے آکر دروازہ کھول دیتی ہوں۔تمام مکان کو لوٹ لو۔اس کے بعد کسی آدمی کے کہنے پر اس لڑکے نے بستر کھڑکی کے اندر پھینک دیا۔اور ایسی فحش کلامی کرتے ہوئے جس کے اظہار کی اخلاق بھی اجازت نہیں دیتا۔چلے گئے۔" ۱۹۔مندرجہ بالا بیانات میں ضمناً بعض احمد می مستورات کے جذبہ ایمانی اور غیرت دینی کا کئی بار تذکرہ ہو چکا ہے۔اب آخر میں دو ا در احمد می خواتین کی ثابت قدمی - استقلال اور ایمانی پختگی کا قابل فخر واقعہ مبارک احمد صاحب ناصر سابق دیہاتی مبلغ ترگڑی ضلع گوجرانوالہ کے الفاظ میں لکھا جاتا ہے :۔گور شیرانوالہ کے محلہ گو بند گڑھ میں مستری امام دین صاحب کے گھر صرف اُن کی دو بہوئیں تھیں۔صادقہ بیگم صاحبہ اور خورشید بیگم صاحبہ ان ہر دو کے بیچے اُن کے پاس ہی تھے جو کہ اول الذکر کے چار اور دوسری کے دو اور ساتھ ہی گھر میں ایک رشتہ دار نوجوان لڑکی سخت بیمار تھی۔جب یہ شورش شروع ہوئی تو انہوں نے بازار سے نئٹی لوہے کی کنڈیاں منگوا کر دروازوں کو خود لگائیں۔مکان کا نکل قیمتی سامان گیلری میں بند کر کے اس کی سیڑھی توڑ ڈالی تاکہ کوئی آدمی گیلری پر نہ چڑھ سکے۔اس طرح سامان کو محفوظ کر لیا۔محلہ کے قریبی آدمی متواتر یہ روزانہ ہر تین چار گھنٹے کے بعد اُن کے پاس آتے اور اپنی طرف سے محبت اور پیار سے یہ کہتے کہ تم صرف احمدیت سے انکار کہ دو۔اس سے تمہاری بے عزتی بھی نہ ہوگی۔اور نقصان بھی نہ ہوگا۔لیکن ان ثابت قدم احمدی خواتین نے ہر دفعہ یہی جواب دیا کہ ہم مر جائیں گی لیکن احمدیت سے انکار ہر گنہ نہ کریں گی یہی سلسلہ متواتر کئی روز تک چلتا رہا۔زاں بعد محلہ کے غیر احمد یوں نے بھی کہا کہ تم ہمارے گھروں میں چلی چلو ہم وہاں تمہاری اچھی طرح حفاظت کریں گے مگر انہوں نے یہی جواب دیا کہ ہم اپنے گھر ہی میں رہیں گی۔خواہ کچھ بھی ہو۔اس طرح ان کی غیر احمدی رشتہ دار مستورات