تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 62
۶۲ التجاؤں کو سنا اور ہماری بے کسی کے پیش نظر عیب سے ہماری مدد کی۔۱۷ مکرم نور محمد صاحب امینی بنگوی کا بیان ہے کہ : " میں بنگہ ضلع جالندھر کا مہاجر ہوں۔۔۔۔۔جن دنوں مخالفت اور فسادات کا زور شورہ دیا تھا تو میں نے چند یوم اپنے مکان کا دروازہ بند کر کے اندر ہی رات دن بسر کیے تھے۔غیر احمدی لڑکے ہو ان اور نیچے اکٹھے ہو کر میرے مکان کے پاس آکر گالیاں نکالتے اور در دازه پر اینٹیں اور پتھر مارتے۔میں اور میرے اہل وعیال صبر سے کام لے کر دعاؤں میں میں مصروف رہتے تھے۔ایک جبکہ مخالفت کا زور تھا اور خطرہ بڑھ گیا تھا میری بیوی کے دو حقیقی بھائی جو غیر احمدی ہیں اور احمدیت کے سخنت مخالف اور دشمن ہیں اور میرے مکان کے قرب میں رہتے ہیں انہوں نے میرے پاس ایک لڑکا بھیجا۔وہ لڑکا کہنے لگا کہ مجھے ان دونوں نے بھیجا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ تم اگر اب اپنی خیر چاہتے ہو اور جان بچانا چاہتے ہو تو احمد بہت سے توبہ کر لو۔میں نے یہ سن کر لڑکے سے کہا کہ تم ان کو جا کر کہہ دو کہ وہ مجھے یہ تحریر کر دیں کہ تو بہ کرنے سے مجھے موت نہیں آئے گی۔جب بے ایمان ہو کر بھی موت آئے گی تو پھر بے ایمانی کی موت سے ایمانداری کی موت نہایت عمدہ اور حد درجہ بہتر ہے۔میرا یہ جواب سن کر وہ لڑکا چلا گیا۔اس کے بعد پھر میرے پاس کوئی نہیں آیا۔اللہ تعالے نے دعاؤں کی برکت سے مجھے اور میرے اہل و عیال کو ہر طرح اپنی پنا ہ اور حفاظت میں رکھا۔، ۱۸ مکرم ماسٹر محمد علی صاحب صدر مدرس گونا چور کا بیان ہے کہ : ر ماریچ سر کو در نیجے کے قریب اپنے مکان پر پہنچا۔اڑھائی بجے کے قریب ہمارے مکان پر سات آٹھ صد نوجوانوں کا ہجوم جن کے ہاتھوں میں دو دو تین تین ہاتھ ہلے ڈنڈے تھے ہمارے مکان پر حملہ آور ہوئے۔آتے ہی انہوں نے گالیاں نکالتی مشروع کر دیں۔اور ڈنڈوں سے دروازہ اور کھڑکیاں توڑنی شروع کر دیں۔چنانچہ انہوں نے کھڑکیوں کے اوپر کے تمام چھچھے اور ایک کھڑکی توڑ دی۔اور پتھراؤ سے کئی شیشے توڑ دیئے۔کھڑکی کے توڑنے کے بعد ایک آدمی نے کھڑکی کے اندر ہا تھ بڑھا کہ کھڑکی کے