تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 61
بچے کو سینے پر لٹا رہا تھا کہ بلوائیوں کا ایک ہجوم آیا جس نے آتے ہی ہمارے مکان کے دروازوں پر پتھر۔ڈنڈے اور اینٹیں مارنی شروع کر دیں۔ہمارے ایک ہمسایہ نے انہیں کہا کہ وہ تو یہاں ہیں نہیں۔لیکن انہوں نے اس کی بات نہ مانی۔اور مانتے بھی کیئے جبکہ ہم اندر سے نظر آرہے تھے۔ہمارا ایک دروازہ مضبوط تھا اور ایک کمز در لیکن خدا کا کہنا ایسا ہوا کہ مضبوط دروازہ ہی ٹوٹ گیا اور اس وقت ہم نے سمجھا کہ بس ہم گئے۔لیکن مین اسی وقت گجرانوالہ کے ایک معززہ غیر احمدی دوست قاضی محمد شریف صاحب مشرقی اور ان کے بھائی آگئے اور انہوں نے ہجوم کو بڑی حکمت عملی سے قابو میں کر لیا جس کی دھبہ سے ہجوم مکان کے اندر نہ آ سکا۔اس طرح محض خدا تعالیٰ کے فضل وکرم سے ہماری جان ومال اور عزت و آبر داور سب سے بڑھ کر قیمتی سے ہمارا ایمان بیچ رہا۔اس مجرم کے رو کے جانے کے بعد ایک مولوی صاحب میرے پاس آئے اور بزعم خویش مجھے مسلمان ہونے کو کہا۔میں نے کہا مولوی صاحب! مسلمان تو میں پہلے سے ہوں۔اس وقت میری بیوی زینب دوسرے کمرہ میں تھی گو اس کی جسمانی ساخت اور صحت کمزور ہے اور بظاہر اس کی طرف سے کمزوری دکھانے کا اندیشہ ہو سکتا تھا۔لیکن اس وقت وہ بھو کی شیرنی کی طرح صحن کی طرف جھپٹی اور نہایت بارعب الفاظ میں کہا در خبر دار ڈولیونہ - مرتا اکو واری اسے خبردار! ڈین گالیومت۔مرنا ایک ہی دفعہ ہے ناقل) اس کے ان الفاظ سے میرے قسیم میں ایک لہر سی دوڑ گئی۔زماں بعد وہ موادی مناب اور ان کے ساتھی خاموشی سے چلے گئے۔یہ حقیقت ہے کہ اس وقت بظا ہر حالات ہماری حفاظت کے تمام ذرائع ختم ہو چکے تھے۔مثلاً میرا حقیقی بھائی اس حملہ سے چند منٹ پہلے ہی باہر چلا گیا تھا۔اور اس تمام واقعہ کے بعد گھر آیا۔ایسے موقعہ پر ہمسایوں سے جو توقع ہو سکتی تھی وہ بھی رائیگاں گئی۔جس دروازے پر بوجہ مضبوطی اعتماد تھا وہ بھی ٹوٹ گیا اور بظاہر ہماری حالت یہی تھی عم سیلے سب جاتے رہے اک حضرت نواب ہے چنانچہ خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم اور ذرہ نوازی سے ہماری شب و روز کی