تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 60
۶۰ میں ایس پی اور ڈی سی کو سارا ماجرا بتاؤں۔وہ مجھے بتانے لگے کہ وہ خو دا بھی ابھی ڈی سی کو مل کر آئے ہیں چنانچہ میں ایس پی اور ڈی سی کے پاس رپورٹ کرنے کے لیے روانہ ہوا۔راستے میں میرے بڑے بھائی رہتے تھے۔میں ان سے ملا۔ردہ ریٹائرڈ انسپکٹر پولیس اور ضلع گجرانوالہ کے رضا کاروں کے کمانڈر بھی ہیں) ان کا داماد جو گوجر انوالہ کا ڈی آئی ایسی تھا وہ بھی وہاں موجود تھے میرے بھائی نے مشورہ دیا کہ چار بجے جب مجمع مکان پر آوے تو تم ان سے کہدو کہ ہم احمد ہی نہیں ہیں۔میں نے فوراً انہیں کہا کہ مرنا صرف ایک دفعہ ہے۔یہ مجھ سے نہ ہو گا۔۔۔میں اپنے گھر واپس آگیا اور میرا داماد جو گھر جاک میں رہتا ہے مذکورہ مہمانوں سے خبر سن کر میرے مکان پہ آیا ہوا تھا اور میرے بال بچوں کو میرے بھائی کے گھر چلے جانے کو تیار کر رہا تھا۔۔۔۔۔میرے بال بچے میری اجازت کے بغیر گھر چھوڑنے کو رہنامند نہ تھے۔میں نے گھر پہنچ کر بال بچوں کو اپنے داماد کے ہمراہ اپنے بھائی کے گھر روانہ کر دیا۔اور خود مکان میں تنہا نماز پڑھنے لگ گیا قریباً پانچ بجے شام موٹروں کی آوازہ میرے کان میں پڑی۔تب میں نے مکان کی چھت پر چڑھ کر دیکھا کہ پولیس اور ملی اور محلہ کے لوگ جمع ہیں۔ملڑی والوں نے میرے مرکان کے ارد گرد پہرے لگائے ہوئے ہیں۔وہ لوگوں سے باتیں کر رہے تھے کہ مرکان اندر سے بند ہے اور مکان میں کوئی آوازہ بھی نہیں آتی۔مجھے چھت پر دیکھ کر انسپکٹر پولیس نے مجھے نیچے آنے کو کہا۔چنانچہ میں نیچے آیا۔انہوں نے مجھ سے سارا ماجر استا۔انہوں بتلایا کہ یہ صاحب فرسٹ کلاس مجسٹریٹ ہیں۔وہ خود انسپکٹر پولیس ہیں اور ملڑی کے افران وغیرہ سے بھی تعارف کرایا۔میں نے انہیں بتایا کہ میں گرینڈ آفیسر ہوں۔۔۔۔غلام ربانی صاحب مذکور بھی دیگر ملوں والوں کے ہمراہ اس وقت موجود تھے مجسٹریٹ صاحب نے فرمایا کہ اگر ذرا سا بھی کوئی واقعہ اس وقت کے بعد ہوا تو پولیس اسٹیشن میں اطلاع کہ دینا التح " ۱۶ مکرم میاں عبد الرحمن صاحب صابر قائد خدام الاحمدیہ گجرانوالہ کا بیان ہے کہ :۔مورخہ با ر مارچ بعد دوپہر میری بیوی اپنے ایک سالہ بچے کو دودھ پلا ر ہی معنی اور میں دوسرے له وفات ۱۵ راکتو به ۶۱۹۸۵