تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 59 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 59

کے مکانوں کے راستے ہمارے مکان کی چھت پر آنے کی کوشش کی مگر انہوں نے اپنے مکانوں میں داخل ہونے سے منع کر دیا۔میرے مکان کی کھڑکیاں جو لب سڑک کھتی تھیں اور کھڑکیوں کے دروازہ اور سوراخوں سے ہمیں دیکھتے تھے اور ہم سب لوگ خاموشی کے ساتھ دعاؤں میں لگے ہوئے تھے بچے سہمے ہوئے تھے اور میرے ایک ہاتھ میں گنڈاسہ تھا اور میں کمرے میں ٹہل رہا تھا اور بچوں اور مستورات کو آہستہ آہستہ تلقین بھی کر رہا تھا کہ دل نہیں ہارتا۔اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا۔اگر فسادی مکان میں داخل ہوانے میں کامیاب ہو گئے تو ڈرنا نہیں جرات سے ان کا مقابلہ ہا کی چھڑی اور لاٹھی سے کرنا۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کی مددکرے گا اور ان شریروں کو معلوم ہو جائے گا کہ مومن کس قدر دلیر ہوتا ہے۔اس وقت ایک شخص کھڑکی کے ایک سوراخ میں سے کھڑکی کے ساتھ آنکھ لگائے دیکھ رہا تھا تو میرے لڑکے نے کہا کہ چرنے کا تکلا (جو بطور ہتھیار ہم نے تیار کہ یہ کھا تھا) اس سوراخ میں ڈال کر اس کی آنکھ پھوڑ دو۔میں نے اُسے جواب دیا کہ ہم حملہ نہیں کریں گے۔البتہ دفاع جرم نہیں۔جو مکان میں داخل ہو گا اُس کو اِس گنڈا سے سے ٹکڑے ٹکڑے کر دونگا۔ہاتھ پاؤں گردن جو بھی اس کھڑکی کے راستے مکان کے اندر آدے گی تو اس کو گنڈاسہ انشاء اللہ تعالیٰ مکان کے اندر رکھے گا اور جسم کا باقی حصہ امکان سے باہر رہے گا۔۔۔۔۔مجھے یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ میری اور میرے خاندان کی مدد کرے گا۔کھڑکی کے سوراخ میں سے تا کنے والے شخص نے میری باتیں سنیں۔اور میرے ٹہلنا اور گنڈا سے کو جوش میں حرکت دینا دیکھا تو چلا چلا کر کہنے لگا اوزار سے بابا تاں ٹوکا رگنڈاسہ لیے پھر وا ا سے لارے لوگو بڑھا مراد اقبال محمد خال بعمر ۵۸ سال) تو گنڈاسہ لیے پھر رہا ہے۔اس کے چند منٹ بعد ہی وہ لوگ کہتے ہوئے منتشر ہو گئے کہ تم نے دروازے نہیں کھولے۔وہ لوگ چار بجے سہ پہر کو چھر آئیں گے ان لوگوں کے چلے جانے کے بعد میرے مہمان گھر جاک رجو گوجرانوالہ شہر سے قریباً دو میل کے فاصلہ پر گاؤں ہے) چلے گئے۔اور میں امیر صاحب جماعت احمدیہ گجرانوالہ کے مکان پر گیا اور ان کو مذکورہ بالاقصہ سنایا تب انہوں نے مجھے ہدایت کی کہ