تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 610
۶۰۸ کو اس کے جوابات دیتے ہوں گے۔چنانچہ آج بعد دوپہر مولانامر تضی احمد مکیش نے مجلس عمل کی طرف سے ملے شروع کیا۔چیف صاحب نے بھی فرمایا کہ یہ مذہبی حصہ بحث کا ہفتہ تک یعنی ۲۰ فروری را تک ختم ہو جائے گا۔شیخ بشیر احمد صاحب نے آج Aggressive تبلیغ کے متعلق سحبت کی اور بلوچستان والے خطبہ جمعہ کی وضاحب بھی کی۔دوران بحث میں کیانی صاحب نے فرمایا کہ تبلیغ کرنا آپ مذہبی فرض سمجھتے ہیں۔اس لیے ہم اس کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں دے سکتے ہاں یہ فیصلہ ہمارا کام ہے کہ آیا ایک خاص تحریہ Aggressive تبلیغ ہے یا نہیں۔شیخ صاحب کی بحث کے دوران میں کیانی صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ اگر آپ ایک دوست کی حیثیت سے میرے پاس اگر تبلیغ کرتے ہیں تو سیکیش صاحب کو اس پر معترض نہیں ہونا چاہیئے۔چیف صاحب نے بھی اُن کی تائید کی بہر حال شیخ صاحب نے نہایت مؤثر طریق پر بحث کی۔میکشی صاحب نے آج بعد دو پر مذہبی حصہ پر حوالہ جات پیش کئے۔کل سوال نمبر ۷ اور Politics Religion سوال پر بحث ہو گی۔بظاہر نظر آتا ہے کہ کل بارہ بجے تک میکشی صاحب اور مولوی مظہر علی اظہر اپنی بحث ختم کرلیں گے اور بعد دو پر ہماری باری شروع ہو جائے گی۔نہ آج ٹیلیفون پر آپ کو اطلاع دینے کی کوشش کی لیکن Connection مل سکا۔والسلام خاکسار غلام مرتضی انہ لاہور " نوٹ منجانب حضرت مرز البشیر احمد صاحب۔۲۴/۲/۵۴ فوری بحضور سید نا مرسل ہو آخری فقرہ میں شاید جلدی آنے کا اشارہ ہے گو شاید جاتے جاتے بحث ختم ہو جائے۔چوہدری صاحب بھی کل صبح یہاں آرہے ہیں۔خاکر مرزا بشیر احمد ۲۵/۲/۵۴ بوقت صبح " د جواب منجانب پرائیویٹ سیکرٹری صاحب) لے یہاں کوئی لفظ چھوٹ گیا ہے تاقل۔