تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 551
۵۴۹ محمدی کا سایہ تک اس پر نہیں پڑ سکتا۔ان حالات کی موجودگی میں کیا سہارا یہ خیال ٹھیک نہیں ہے کہ یہ ساری فتنہ سامانی ہوس اقتدار کی آسودگی کے لیے ہورہی ہے شخصی منافرت اور کشمکش برتری نے اس فتنہ کو اپنا سہارا بنالیا ہے۔؟ اس امر کے امکانات بھی موجود ہیں کہ پاکستان کے دشمن پاکستان سے اپنی استحصالی آرزؤں کو وابستہ رکھنے والوں نے چند ملاؤں کو اپنا آلہ کار بناکہ اور چند حکمرانوں کو مقامات بلند کے جھانسے دے کہ پاکستان کے نظم وضبط کو درہم برہم کرنے کے لیے یہ کھیل شروع کر رکھا ہے۔چاہے کچھ ہی کیوں نہ ہو پاکستان کے ہوشمند شہریوں، فرض شناس حکمرانوں اور خود آگاه و مخلص رہنماؤں کا یہ فرض ہے کہ وہ اس فتنہ کی پرزور مذمت کریں اور اس غیر اسلامی ہنگامہ آرائی کو سختی کے ساتھ کچلنے اور دبانے کی کوشش کریں اور تا ترک کی طرح ان ملاؤں کو عبرتناک سزائیں دیں جو اس - شتر فتن کے خالق ہیں اور اسلام کے نام پر اسلام کی روح کو مسخ کر رہے ہیں یا اے اخبار رہبر، کانپور) نے اپنی ۱۴ مارچ ۱۹۵۳ء کی اشاعت میں مندرجہ ذیل مقالہ شائع کیا۔در مشہور یہ ہے کہ پاکستان میں احراریوں نے احمدیوں کے خلاف مذہب کے نام پر جو سیاسی ہنگامہ بر پاکر رکھا ہے وہ سارے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے لیکن جہاں تک اخبار می اطلاعات کا تعلق ہے یہ آگ پنجابی مدود رہیں جس تیزی سے لگی ہوئی ہے وہ کسی وہ اور صوبے میں نہیں ہے۔اس کی وجہ ایک تو صوبائی تعصب ہے۔دوسری پنجابی مسلمانوں کی قدیم تو ہم پرستی ہے۔پنجابی پاکستانی مرکزی حکومت سے کبھی مطمئن نہیں ہوا۔اس کے بس میں ہوتا تو اس قسم کے ہنگامے اس سے بہت پہلے کہ کے مرکزی حکومت میں انقلاب پیدا کرنے کی کوشش کرتا در بهنگام خواہ کم ہو یا زیادہ پاکستان میں جس طرح شروع ہوا ہے وہ افسوس ناک ہے۔اور اس سے بڑھ کر رونے کی بات یہ ہے کہ احراریوں کے اس سیاسی جال میں علماء کرام پھنس گئے ہیں اور جو مسئلہ آئینی جدو جہد سے حل ہو سکتا تھا اس کے لیے غیر آئینی راستہ اختیار کرنے پر ندور نه بحوالہ ہفت روزه بدر ( قادیان) ، را پریل ۱۹۵۳ء ص ۶