تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 550
۵۴۸ حرکتیں ان سے سرزد ہو رہی ہیں۔جو خود اسلام کی روح کو مضطرب کیے بغیر نہیں رہ سکتیں احمدی ہو یا مہدوی۔شیعہ ہو یا سنی حنفی ہو یا منیلی ہر ایک کو اس کی آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنے اندازہ میں سوچے اور اپنی پسند کو دوسروں کی پسند ہمہ ترجیح دے۔اگر کچھ لوگ مرزا غلام احمد کو نبی مانتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے۔یہ ان کی صوابدید ہے۔اور یہ ان کا اپنا اعتقاد ہے۔پاکستان کے وہ علمائے دین اور مفتیان شرع متین جو احمدی و غیر احمدی کے عنوان پر قتل و غارتگری کو ہوا دے رہے ہیں۔ہمیں جواب دیں۔کہ دوسروں کے عقائد میں مداخلت کرنا۔دوسروں کی صوابدید پر پہرے بٹھانا اور دوسروں کے اندازہ فکر کو متاثر کرنا کہاں کی مسلمانی ہے۔یہ اسلام کا کون سا اصول یہ ہے۔اور یہ رسول کہ علم کی کسی تعلیم کی تعمیل میں ہورہا ہے۔ہمیں معلوم ہے نبی کریم نے دل آنداری کی سختی کے ساتھ ممانعت کی ہے۔اور دوسروں کے عقائد کی تضحیک سے شدت کے ساتھ روکا ہے اس انداز کریسی و نیک نفسی کے خلاف جانیوالے غور کریں۔کہ وہ خود کہاں تک سچے مسلمان اور نبی کریم کے حقیقی پر ور اور شیدائی ہیں۔اعتقاد کا معاملہ دنیادی نہیں، دینی اور صد فیصدی دینی معاملہ ہے۔اور اس معاملے میں حق و ناحق کا فیصلہ کرنے کی جسارت انسان نہیں کر سکتا۔یہ صرف خدائے قدوس ہی کرے گا۔اگر کوئی غلط راستے پر پل رہا ہے۔اور غلط روی پر مصر ہے۔تو وہ خدا کے حضور میں خود جواب وہ ہے۔بنی کریم نے بھی کبھی کسی کے ساتھ سختی نہیں کی۔اور نہ ہی اسلام کی طرف گم کردہ راہوں کو بلایا ہے۔اور حبیب خود پائی اسلام نے جبر و اکراہ سے کام نہیں لیا۔تو اسلام کے نام لیواؤں کو تشدد اور زیر دستی کا پردانہ کس طرح دیا جا سکتا ہے۔ہمیں حیرت تو اس بات پر ہے۔کہ احمدی و غیر احمدی کے اس فتنہ کو ہوا دینے والوں میں ان علمائے دین کے نام بھی نظر آرہے ہیں۔جو " اسلام کی حقیقی سپرٹ پیدا کرنے کے لیے تحریکیں چلا رہے ہیں۔جو طاغوتی نظام معاشرت کے خلاف جنگ کے بہت بڑے رہنما مانے جاتے ہیں۔اور تو ہر چیز کو اسلام اور قرآن کی روشنی میں رکھنے کی کوششیں کرتے ہیں۔اور جو اپنے مخصوص گروہ کے ساتھ اس امر کی دھواں دھار کوشش کر رہے ہیں۔کہ پاکستان کا دستور اسلامی دستور ہو۔اور قرآن اور فرمودات محمدی کی یہ دشمنی میں اس کی ترتیب عمل میں آئے ہمیں حیرت اس سے ہو رہی ہے۔کہ یہ سب ہنگامہ آرائی قطعی اسلامی سپرٹ کے خلاف ہے اور فرمودات